اپنے

یا اللہ میرے انجان تکبر کو معاف کرنا

کہتے ہیں مومن ایک سوراخ سے بار بار دسا نہیں جا سکتا۔ یہ بات الگ کہ ہم مومن بھی ہیں کہ نہیں۔ مگر دینی اور دنیاوی باتیں ہمیں بہت کچھ سکھا دیتی ہیں۔میرا بچپن اور اسکے بعد کی عمر ان ہی پہیلیوں میں الجھے گزر گئی۔ مگر اپنی الجھنوں ، ذہنی سوالات اور مسائل کا حل میں اپنے ہی انداز میں نکالتی رہی۔ نا تو یہ گتھی سلجھی، نا ہی میرے سوالوں کا کوئی دینی جواب حاصل کر ہی پائی۔آج کل میں پھر سے ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ کہ ایسے رشتے جو بار بار ہمیں دھوکا دے رہے ہیں۔ ہماری بدنامی کر رہے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہتے انسے نباہ کیسے ہو۔

کافی بار دل سے انھیں معاف کیا۔ اپنا دل ان کی طرف سے صاف کیا۔ پر پھر کچھ وقت کے بعد یہ رشتے ہمیں دھوکا دے جاتے ہیں۔ قصور نا جانے کسکا ہے۔ پر مجھے تو اپنے زہن کا سکون تلاش کرنا ہے۔ اور اب مجھے اپنے زہن کا سکون اس بات میں نظر آتا ہے کہ۔ ان رشتوں سے محتاط تعلقات رکھے جائیں۔ضرورت کی بات ہو۔اور غیر ضروری باتوں سے اجتناب کیا جائے۔مگر مشکل یہ نہیں کہ ، مشکل تو یہ ہے کہ کیا ایسا کر کے ہم صحیح کر رہے ہیں یا غلط؟

اپنے حصے کی ذیادتی کر کے ہمارے یہ اپنے تو سب بھول گئے۔ مگر جو کاری ضرب انہوں نے ہمارے دل پر لگائی اس کا کیا؟کیا اتنا آسان ہوتا ہے بار بار کسی کی ذیادتی کا شکار ہونا۔ کیا بار بار رشتوں میں دراڑ یا شگاف پر کیا جا سکتا ہے؟ کیا بار بار کسی کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ کیا روز روز دل کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟ کیا دل کو اور اپنے جزبات کو بار بار روندھا جا سکتا ہے؟کیا بار بار رشتوں اور جزبات سے کھیلا جا سکتا ہے؟ نہیں؟ بلکل نہیں۔ بس اس ہی جزباتی ٹوٹ پھوٹ اور بنتے بگڑتے تعلقات کا واحد حل مجھے یہ ملا کہ۔ فیصلہ واحد کر لوں ۔ اور وہ واحد فیصلہ ہے محتاط ہو جانے کا۔ ضرورت کے تعلقات رکھنے کا۔ آج یہ ہی کشمکش ہے کہ ، کیا یہ تکبر ہے۔ کہ ہمارا وہ ہی اپنا جس نے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا کہ اس سے محتاط رہا جائے۔ ہم سے اپنے کئیے کی تلافی کئیے بغیر یہ چاہتا ہے کہ میں اسکے ساتھ اپنے ویسے ہی جذبات جوڑ لوں، جو اس کئی بار کی ٹوٹ پھوٹ سے پہلے تھے۔کیا یہ ممکن ہے؟ مجھے کوئی اس سوال کا جواب دے۔

ااز روبی اکرم

.