. banner

تنقید کا جواب کیسے دیں

السلام علیکم

ہم میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جس کو کسے کی جانب سے تنقید کا نشانہ نا بنایا گیا ہو۔ کسی کی عادتوں پر تنقید کی جاتی ہے، کسی کے کھانے پینے پر، کسی کی چال ڈھال پر تو کسی کی ذندگی میں اگر کوئی کمی ہے ، تو اسکو ایسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جیسے یہ کمی اسکی اپنی کسی غلطی کا نتیجہ ہو۔

الغرض یہ کہ ہر انسان کسی نا کسی تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔ مگر کچھ لوگ اس تنقید کو اپنا منفی پہلو بنا کر محفلوں سے دور بھاگنے لگتے ہیں۔ یا لوگوں سے تعلقات قطع کرنے لگ جاتے ہیں۔ آپ کا ایسا کرنا بلکل بھی مناسب نہیں۔ اس طرح آپ خود پر تنقید کرنے والی بڑی فہرست کو دعوت عام دے رہے ہیں۔ اور بظاہر تو آپ خود کو جھوٹی تسلی دے رہے ہیں کہ آپ ایسے لوگوں کو اگنور کر رہے ہیں۔ مگر در حقیقت آپ خود کو اکیلا کر رہے ہیں۔ اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ یا تو آپ ڈیرھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ جائیں گے۔ یا اپنی زندگی میں آنے والی خوشیوں کو جلنے کڑہنے کی نظر کر دینگے۔ اورتنقید کرنے والوں کو آپ کی زات میں خامیاں تلاش کرنے کے مزید مواقع فراہم کر دینگے

آپ کا یہ طرز عمل درست نہیں۔ آپ کو کچھ عادتیں خود میں پیدا کرنی پڑینگی۔

جن میں سر فہرست ہیں

تنقید کو کھلے دل سے قبول کریں۔ اور خود کے لیئے چیلینج سمجھ کر اپنے آپ میں وہ خامیاں ختم کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔ اسکے علاوہ تنقید کرنے والے ہی سے براہ راست ایسی خامی دور کرنے کا مشورہ لیں۔ اس سے نا صرف آپ کا اعتماد بحال ہوگا۔ بلکہ آپ اپنے آپ میں مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ بجائے تنقید کرنے والے کے خلاف منفی رویہ ظاہر کرنے کے۔

تنقید کرنے والے کو مثبت جواب دیں۔ بجائے اسکے کہ آپ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید سن کر سٹ پٹا اٹھیں۔ آپ کو چاہیئے کہ تنقید کرنے والے کو مثبت جواب دے کر ششدر کر دیں۔ ایسے کہ وہ آپ کے منفی پہلو کی بجائے مثبت پہلو کی طرف مائل ہو جائے۔

زندگ

نام پر زندگی کی کسی بھی کمی کو اپنی خامی بنا لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کر درست نہیں۔ آپ کے پاس جو ہے۔ وہ بہت سے لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اور جو بہت سے لوگوں کے پاس ہے۔ آپ اس سے محروم ہیں۔ یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔ زندگی میں جو نعمت حاصل کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ اسے جان کی بازی لگا کر بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر جو نعمت آپ کے اختیار میں نہیں۔ آپ چاہے زندگی بھی ہار جائیں وہ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ لہٰذا تقدیر کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں۔ آپ کا نصیب جو بھی ہے خود چل کر آپ کے پاس آتا ہے۔ اور جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں آپ اسکے لیئے جواب دہ بھی نہیں۔ نعمتوں کی کمی پر تنقید کرنے والوں یا سوال پوچھنے والوں کے سامنے اپنی کمی پر دکھ کا اظہار بلکل نا کریں۔کیونکہ آپکی یہ کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ اور جو آپ کی یہ کمی پوری کر سکتا ہوگا۔ یقین مانیئے وہ آپ کو اس کمی کا احساس دلائے بغیر ہی آپ کو اس نعمت سے نواز دیگا۔

ایسے مواقع پر کسی کمی پر لوگ اگر ترس کھانے کے انداز میں آپ سے مخاطب ہوں۔ یا آپ سے سوال کریں۔ تو آپ نہایت اعتماد کے ساتھ اور مثبت انداز میں نفی میں جواب دے کر خاموش ہو جائیں ۔ یا جواب دینے کے بعد کسی اور عنوان پر گفتگو شروع کر دیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ ابھی تک آپ کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ یا آپ کی منگنی نہیں ہوئی۔آپ کا قد چھوٹا کیوں رہ گیا۔ یا رنگت کالی کیوں ہے۔ یا آپ کی عمر زیادہ ہو گئی آپ کا رشتہ نہیں ہوا۔ تو آپ نے خود پر ترس نہیں کھانا۔ نا ہی سوال پوچھنے والے کو اپنا ہمدرد سمجھنا ہے۔ کیونکہ ہمدرد آپ سے زندگی کی کمی کیوں ہے جیسا سوال کر کے کبھی آپ کا دل نہیں دکھائے گا۔ بلکہ آپ کو دعا ہی دے گا۔ آپ نے بڑے مثبت انداز میں صرف اتنا جواب دینا ہے۔ کہ جی ہاں اولاد نہیں ہے میری۔ اللہ کی رضا، یا جی ہاں رشتہ نہیں ہوا۔ یا کچھ بھی۔ جس کی بنیاد پر آپ کو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔

یاد رہے۔ آپ نے اپنی شخصیت خود تعمیر کرنی ہے

ی کی کمیوں کو اپنی خامی نا سمجھیں۔ ہم میں سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو، نصیب کے نام پر زندگی کی کسی بھی کمی کو اپنی خامی بنا لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کر درست نہیں۔ آپ کے پاس جو ہے۔ وہ بہت سے لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اور جو بہت سے لوگوں کے پاس ہے۔ آپ اس سے محروم ہیں۔ یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔ زندگی میں جو نعمت حاصل کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ اسے جان کی بازی لگا کر بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر جو نعمت آپ کے اختیار میں نہیں۔ آپ چاہے زندگی بھی ہار جائیں وہ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ لہٰذا تقدیر کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیں۔ آپ کا نصیب جو بھی ہے خود چل کر آپ کے پاس آتا ہے۔ اور جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں آپ اسکے لیئے جواب دہ بھی نہیں۔ نعمتوں کی کمی پر تنقید کرنے والوں یا سوال پوچھنے والوں کے سامنے اپنی کمی پر دکھ کا اظہار بلکل نا کریں۔کیونکہ آپکی یہ کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ اور جو آپ کی یہ کمی پوری کر سکتا ہوگا۔ یقین مانیئے وہ آپ کو اس کمی کا احساس دلائے بغیر ہی آپ کو اس نعمت سے نواز دیگا۔

ایسے مواقع پر کسی کمی پر لوگ اگر ترس کھانے کے انداز میں آپ سے مخاطب ہوں۔ یا آپ سے سوال کریں۔ تو آپ نہایت اعتماد کے ساتھ اور مثبت انداز میں نفی میں جواب دے کر خاموش ہو جائیں ۔ یا جواب دینے کے بعد کسی اور عنوان پر گفتگو شروع کر دیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ ابھی تک آپ کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ یا آپ کی منگنی نہیں ہوئی۔ یا آپ کی عمر زیادہ ہو گئی آپ کا رشتہ نہیں ہوا۔ تو آپ نے خود پر ترس نہیں کھانا۔ نا ہی سوال پوچھنے والے کو اپنا ہمدرد سمجھنا ہے۔ کیونکہ ہمدرد آپ سے زندگی کی کمی کیوں ہے جیسا سوال کر کے کبھی آپ کا دل نہیں دکھائے گا۔ بلکہ آپ کو دعا ہی دے گا۔ آپ نے بڑے مثبت انداز میں صرف اتنا جواب دینا ہے۔ کہ جی ہاں اولاد نہیں ہے میری۔ اللہ کی رضا، یا جی ہاں رشتہ نہیں ہوا۔ یا کچھ بھی۔ جس کی بنیاد پر آپ کو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔

یاد رہے۔ آپ نے اپنی شخصیت خود تعمیر کرنی ہے۔ یا تو آپ لوگوں کی ترس کھانے والی نظروں کو قبول کریں۔ یا منفی بیانات کا نشانہ بنتے رہیں۔ یا زندگی کی رونقوں سے دور ہوتے چلے جائیں ایسے لوگوں کی وجہ سے۔

یا پھر خود اعتمادی پیدا کر کے بھر پور شخصیت کے ساتھ زندگی کا مقابلہ کریں۔ ایک کمی یا خامی کو بالا تر رکھ کر زندگی کی باقی خوشیوں اور نعمتوں کو گلے لگا لیں۔ یا گھٹ گھٹ کے مر جائیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

شکریہ

.
.
%d bloggers like this: