Site Loader
Islamabad, Pakistan

calming melody logo edited

،

 ناکام شادی شدہ زندگی کی وجوہات

،

،

،

،

،

،

السلام علیکم

گزشتہ گفتگو میں ہم ناکام شادی شدہ زندگی کی وجوہات میں سے تین اہم وجوہات کا تذکرہ کر چکے ہیں . مجھے امید ہے کہ گزشتہ وجوہات پڑھ کر آپ کے ذہن میں یہ ضرور آ رہا ہوگا کہ روبی اکرم نے زیادہ وجہ لڑکی کی سوچ کو ہی کیوں سمجھا .

آپ کے اس سوال کا جواب میں اس طرح دینا چاہونگی کہ ایک لڑکا اپنے والدین، بہن بھائیوں اور رشتے داروں کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے گھر نہیں جا رہا ہوتا ، بلکہ ایک لڑکی اپنے تمام عزیز گھر والوں اور رشتے داروں کو چھوڑ کر لڑکے گھر والوں کے ساتھ اپنی آئندہ آنے والی زندگی گزارنے جا رہی ہوتی ہے . جہاں وہ اپنی ، اپنے گھر والوں کی اور جان پہچان والوں کی ڈی ہوئی تربیت ساتھ لے جا رہی ہوتی ہے ، لڑکی جو کہ کسی گھر کی بہو بنتی ہے، کسی کی بیوی بنتی ہے، اس پر اس روز ہی سے نظریں جم جاتی ہیں لوگوں کی جس روز سے وہ اپنے سسرال میں قدم رکھتی ہے . یہ ایک قدرتی عمل ہے . اس عمل سے آپ بھی اور آپ کے سسرال والے بھی انکار نہیں کر سکتے . جہاں ان لوگوں کی نظریں آپ پر ہیں، وہیں آپ کی نظریں بھی ان لوگوں پر ہوتی ہیں . مگر فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ، لڑکی نے بہت ساری نظروں کا سامنا کرنا ہوتا ہے ، اور جو کچھ وہ سیکھ کر آئی ہے ، جو عادتیں اسکی ہیں سب کی سب پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے . اور یہ ہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ نے اپنے والدین اور گھر والوں کی تربیت کو قابل عزت ظاہر کرنا ہوتا ہے . میرے خیال سے کوئی بھی لڑکی جان بوجھ کر ایسے عمل کو اختیار نہیں کرے گی جو اسکے والدین کی ڈی جانے والی تربیت پر آنچ آنے دے . یہ ہی وجہ ہے کہ نا کام شادی شدہ زندگی کو لے کر زیادہ تذکرہ لڑکی کا ہی کیا جاتا ہے.

دوسری اھم بات ، وہ یہ کے ہمارے معاشرے میں لڑکی کو قربانی اور ایثار کی تربیت دے کر رخصت کیا جاتا ہے تو سسرال کی صورت میں موجود لوگ اس سے یہ ہی توقع رکھتے ہیں ، جو کے سراسر غلط توقع ہے . جس طرح ایک لڑکی پہلے ہی سے اپنے والدین کی بے لوث محبت ، ایسا پیار کہ جس کا کوئی ثانی نہیں ، کو چھوڑ کر پہلے ہی قربانی دے کر آ رہی ہوتی ہے ، اپنے دل میں لا تعداد خوف لئے جب وہ اپنے سسرال والوں کا برا سلوک دیکھتی ہے تو اسکے سارے خواب ، جو اسنے اپنی شادی شدہ زندگی کے لئے دیکھ ہوتے ہیں وہ چکنا چور ہو جاتے ہیں، اور جو کچھ لڑکی سوچ کر آئی ہوتی ہے اس سب کو کرنا تو دور ، لڑکی میں اپنے ماحول اور حالات کے ک حلاف ضد پیدا ہو جاتی ہے ، اور یہ ضد خلاف ماحول حالات پیدا کرنے میں لڑکی کی بہت مدد کرتی ہے .

یہ لڑکے والوں کا فرض ہے کہ وہ لڑکی کو ایسا ماحول دیں کہ جس میں لڑکی اپنی صلاحیتیں ، اپنے کام کاج اور اپنے سلیقے سے آپ کا دل موہ لے ، نا کہ ایسا ماحول کہ جس میں آپ بھی اور وہ لڑکی بھی نفسا نفسی کی دوڑ میں لگ جائے .ایک لڑکی سسرال کے ماحول کی عادی نہیں ہوتی ، اسنے صرف اپنے والدین کی محبت دیکھی ہوتی ہے ، کوئی غلطی اس سے اگر سر زد ہو گئی ہے تو اسکے جواب میں اسنے صرف ہمدردی اور ایک اچھا مشورہ لینا سیکھا ہے اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ، وہ یکدم سسرال والوں کے نکتہ چینی والے جملوں کی کیسے عادی ہو سکتی ہے . سسرال میں قدم رکھنے والی لڑکی ایک انسان ہے ، جس سے غلطیاں بھی ہونگی اور لا پرواھیاں بھی ، ان سب کو سیکھنے اور سمجہھنے کے لئے اسکو وقت بھی درکار ہوگا ، تو پہلے ہی دن سے لڑکی کی کسی غلطی کو اسکے لئے سزا بنا لینا ، یا اسکی غلطی کو بار بار دوہرانا ، لڑکی کو اسکی غلطی پر بار بار شرمندہ کرنا لڑکی کے لئے بے حد تکلیف دہ عمل ہے . یہ سسرال والوں کا فرض ہے کہ وہ لڑکی کی غلطی کو معاف کرنا سیکھیں ، بلکہ اچھے بزروگوں اور بڑے بوڑھوں کی طرح اسکی کم عمری میں اسکی تربیت کریں، اسکے ذہن میں سسرال کو لے کر پنپتا خوف ختم کریں .

یہ اپنے گھر کا ماحول بنا لیں کہ دن میں کچھ گھنٹے یا کم از کم آدھ گھنٹہ تمام اہل خانہ ایک جگہ اکھٹے ہو کر بیٹھیں، کھایئں ، پیئں ، آنے والی زندگی کے بارے میں گفتگو کریں کچھ ہنسی مذاق کا ماحول بنایئں . کہیں پکنک پر جانے کا سوچیں . بہو کو بھی اپنے بچوں کی طرح مخاطب کریں . یہ عمل بہو کے دل میں آپ لوگوں کی مزید عزت بڑھائے گا ، نا کہ آپ بہو کو دنیا کی انوکھی مخلوق سمجھ کر اسکے ایک ایک قدم کو گننا شروع کر دیں .

یہ تمام ماحول دینے کے بعد بھی اگر بہو کے آپ کے ساتھ اختلافات ہیں تو آپ بہو کا رویہ صحیح نہیں یہ کہنے میں حق بجانب ہیں . لہٰذا لڑکی کو بھی چاہئے کہ وہ گھر میں سب کے ساتھ مل جل کر کھائے ، پیئے ، اٹھے بیٹھے ، کچھ ایسا پکا لائے جس کو سب مل کر کھا لیں ، کہیں باہر جائے تو سسرال والوں کے لئے ہلکے پھلکے تحفے بھی لے آئے ، اور یہ یاد رکھے ، کے یہ تحائف وہ اپنی جیب سے قطعی نہیں لا رہی ، بلکہ والدین کے اپنے بیٹے اور بہن بھائیوں کے اپنے بھائی کی جیب سے لا رہی ہے، اس طرح سسرال والوں کے دل میں بہو کے لئے دل میں خاص گوشہء گھر کر لیتا ہے .

آپ مجھے یہ بتائے کہ کیا آپ بطور بہو اپنے سسرال والوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتی ہیں کہ جس سے آپ کے سسرال والوں کو یہ محسوس ہو کہ آپ انکے گھر کا حصہ بن گئی ہیں ،

یا آپ بطور سسرال والے اپنی بہو کے ساتھ ایسا روایا اختیار کرتے ہیں کہ بہو کو لگے کہ آپ نے اسکو اپنے گھر والوں کو حصہ بنا لیا ہے.

اس حوالے سے آپ کے ذہن میں بھی کچھ سوالات ہیں تو انکا آپ بر ملا اظہار کر سکتے ہیں .
آپ کے جوابات کی منتظر

روبی اکرم

سلسلہ وار مشاہداتی گفتگو حصہ – ١

سلسلہ وار مشاہداتی گفتگو حصہ ٢

سلسلہ وار مشاہداتی گفتگو حصہ -٣

سلسلہ وار مشاہداتی گفتگو حصہ – ٤

سلسلہ وار مشاہداتی گفتگو – میں کہاں سے آ گئی ؟

Originally posted 2014-05-21 04:10:48.

Post Author: CaLmInG MeLoDy

3 Replies to “ناکام شادی شدہ زندگی کی وجوہات-1”

  1. walaikum Assalam.

    Boht he Aala o umda or suljhao wale Andaaz se Samjhaya hai or meri khud ki yehe soch hai

    k

    Ek Matric k student se Final Exam tab he lia jata hai Jab Ose Matric Ki Pori Book ek ek lesson ek ek theory parha bata or samjha di jati hai or Tab Agar Vo Fail hota hai to Fault student ka hai na k Teacher ka par Agar Ap Matric k student ko Matric Books Bager Parhaey bataey samjhaey kahe k Matric ka final exam do to ye Sara sar galat or Jahalat hai or os surat mai Teacher K zabardasti exam lene pe student agar fail hota hai to Ye Fault nahe Bal k Teacher ka Jurm hai k Osne Os Chees ka Exam lia jo os Ne Sire se parhaya he nahe.

    To Susraal ko Chahiye Boht Piyar o muhabbat k sath Baho ko Rakhe or Samjhaey Apne Ghar k Toor Tareeke or phir ose Used to Hone de.

    kher Kehne ko boht koch hai mai to bolta he raho ga itna kaafi hai.

  2. Attractive section of content. I just stumbled upon your
    website and in accession capital to assert that I get in fact enjoyed account your blog posts.

    Any way I’ll be subscribing to your augment and even I achievement you access consistently fast.

Comments are closed.