وقت انسان کو کیسے برباد کرتا ہے۔

وقت انسان کو کیسے برباد کرتا ہے۔

السلام علیکم

  ہم نے سن رکھا ہے کہ انسان نے وقت برباد کر دیا۔ مگر یہ نہیں سنا کہ وقت نے انسان کو برباد کر دیا ۔اس بات کا تجزیہ آپ میری آج کی گفتگو سے کر سکیں گے کہ وقت انسان کو کیسے برباد کرتا ہے۔ 

انسان لاکھ بھلا چاہے پھر بھی حالات نا بدلیں، انسان شدید محنت کرے پھر بھی حاصل نا وصول۔ محبتوں کو سمیٹتا رہے پر رشتے ، تعلقات ہاتھوں سے پھسلے جائیں۔ ان تمام عوامل کو کہتے ہیں کہ وقت نے انسان کو برباد کر دیا۔ مطلب انسان کی تقدیر ساتھ نا دے رہی ہو تو حالات کیسے بھی ہوں، محنت کا پھل نہیں ملتا۔ تعلقات وفا نہیں کرتے۔ بات کا اثر بے اثر رہتا ہے۔ 

یہ سب ایک دم اچانک نہیں ہوتا۔ انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور انسان اس دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔  جب انسان نوازا جا رہا ہوتا ہے۔ جب نعمتوں کی برسات ہو رہی ہوتی ہے۔ عزت ہی عزت ، شہرت ہی شہرت انسان کے پیر چھو رہی ہوتی ہے ۔ جب  ہر مانگی مراد بر آتی ہے ۔ تب انسان ایسے وقت کی قدر نہیں کرتا۔ خود کو دنیا سے الگ مخلوق سمجھنے لگتا ہے۔ اپنے سے کمتر کہ اہمیت نہیں دیتا ۔ قدموں میں آئی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔ تھالی میں سجی عزت کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔ تب ایسے انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا ۔ اور یہ وقت اسکے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ انسان اپنی اہمیت ختم کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ نصیب کو ٹھکرا رہا ہوتا ہے۔ اور نصیب اسکو۔  الغرض وہ جیسا وقت کے ساتھ کرتا جاتا ہے ۔ ویسا وقت اسکے ساتھ برتائو کرتا جاتا ہے۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وقت انسان کو برباد کر دیتا ہے۔

از روبی اکرم 

.