.

!!!ہمارے پڑوسی۔۔۔۔۔۔۔ by Mamin Mirza

Racer_Fashion

Racer_Fashion

!!!ہمارے پڑوسی۔۔۔۔۔۔۔

written by Mamin Mirza

مصیبت کے تالے ،ہمارے پڑوسی
آفت کے پرکالے ،ہمارے پڑوسیہر آن وہ توڑ پھوڑ رہتے ہیں کرتے
نہیں چین سے وہ سونے ہیں دیتے
کرتے ہیں ہر دم کوئی کارستانی
کہ جس سے ہو مشکلات کی، فراوانی
سمجھتے ہیں خود کو مخلوق فردوسی
شر انگیزی کے ہالے ،ہمارے پڑوسی۔۔۔۔!!!ڈال کر ہمارے فیز وائر پر وہ کنڈا
باجی بجلی کو گھنٹوں کروادیں وہ ٹھنڈا
کریں جو شکایت تو کہتے ہیں ہم سے
پڑوسی ہو تم بھی معصوم قسم سے
رفع ہوگی تکلیف کھا لو یہ بھوسی
بدہضمی کے مارے ہمارے پڑوسی۔۔۔۔!!!

اچھے پڑوسی بھی خدا کی ایک نعمت ہوتے ہیں،اِس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جن کے پڑوس شر پسند عناصر سے آباد ہیں۔۔!!
ہمارے پرانے ہمسائے قریباََ چار برس قبل اپنا مکان فروخت کرکے کہیں اور سکونت پذیر ہوگئے۔فروخت کئے جانے کے بعد تین برس تک اِس مکان میں کسی نے رہائش اختیار نہیں کی اور یہ بھوت بنگلے کی عملی تفسیر بنا رہا۔پھر پچھلے برس نئے مالکِ مکان نے یہاں ڈیرے ڈالنے کا ارادہ باندھا اور ایسا باندھا کہ ہماری برداشت کے سارے بند ٹوٹنے کو آئے۔۔۔!!!
صاحب بہادر نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ یہاں منتقل ہونے سے قبل مکان کو اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق ڈھالنے کے لئے مرمت،تبدیلی اور تعمیر کا کام شروع کیا،جس کا اختتام محترم و اہل و عیال کے رہائش اختیار کرلینے اور ڈیڑھ برس کا عرصہ گزر جانے کے بعد
بھی نہیں ہوا ہے۔۔۔!!!
کبھی ہوادان بن رہا ہوتا ہے تو کبھی صحن کی دیواریں اونچی ہو رہی ہوتی ہیں۔کبھی اچھی بھلی پختہ چھت اُدھیڑ کر ٹین کی چادروں کی چھت ڈال لی جاتی ہے۔کبھی برقی ڈرل چلنے لگتی ہے تو کبھی دیوار بے چاری پر ہتھوڑی کے پے در پے وار شروع ہوجاتے ہیں۔اتنے چھید تو شاید آٹا چھاننے کی چھلنی میں بھی نہیں ہونگے جتنے ہمارے پڑوسیوں کی دیواروں میں سوراخ پائے جاتے ہیں۔۔۔!!!
پہلے گیراج بنایا ۔پھر اُس گیراج کو پکوان ہاو¿س میں ڈھالا ۔افتتاحی تقریب منعقد کی ۔اہلیانِ محلہ اور رشتے داروں کو مزیدار بریانی کھلائی اور پکوان ہاوس چلانے کا ارادہ ملتوی کرکے اُسے بند کردیا۔اب اُسی پکوان ہا و¿س میں تندور کھول رہے ہیں ،جس کے لئے تعمیر و مرمت کا کام پچھلے ڈیڑھ ماہ سے زور و شور سے جاری ہے۔یوں لگتا ہے کہ دیوارِ چین سے بھی طویل کوئی تعمیر ہو رہی ہے۔۔۔!!!
جنابِ والا کے گھر کی خواتین اِس درجہ ببانگِ دُہل بات کرتی ہیں کہ ہمیں اپنے گھر میں بھی صاف سنائی دے جاتا ہے کہ پڑوس میں کس نے کس سے کیا کہا۔۔۔۔؟میوزک سسٹم ایسا مدھر بجاتے ہیں کہ میرے کمرے میں موجود ہر ایک شے معہ درودیوار کے تھرکنے لگتی ہے۔۔۔!!!
محترم کی چھت پر رکھا ہیلی کاپٹر یعنی جنریٹر جب چلتا ہے تو اپنے گھر میں ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے ہمیں لاوڈ اسپیکر کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔فجر ،ظہر،عصر ،مغرب ،عشاءخواہ کسی بھی وقت کی اذان ہو،ایسے شور میں سنائی نہیں دیتی ہے۔دائمی نقشہ (پنج وقتہ اوقات کارِ نماز ) دیکھ کر اندازہ لگا نا پڑتا ہے کہ اب فلاں نماز کا وقت ہوچلا ہے۔۔۔!!!
یہ تو صرف دائیں جانب کے ہمسایوں کا احوال ہے،بائیں طرف والے تو ان سے بھی چار قدم آگے ہیں ،اتنے آگے کہ اُن کے کارنامہ عظیم کو ضبطِ تحریر میں لانا اَز حد مشکل ہے۔۔۔!!!
اقراءکے نور سے پھوٹنے والی علم و دانش کی روشنی نے جب جہالت کے اندھیروں کو چیر کر جب انسانوں کو انسانیت اور زندگی جینا سکھایا ،تب ایک دوسرے کے حقوق بھی وضع کردیئے۔انسانوں کے انسانوں پر،ماں باپ کے اولاد پر،عزیز رشتے داروں کے ،پڑوسیوں کے ،سب ہی کے حقوق الگ الگ اتنی تفصیل سے بیان کردئیے کہ پھر کوئی ابہام باقی نہ رہا۔۔۔۔!!!
پڑوسیوں کے حقوق عزیز رشتے داروں سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر خوشی اور غم کے موقع پر سب سے پہلے ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں ۔رشتے داروں تک تو اطلاع جب جاتی ہے تب اُن کی سواری بادِ بہاری ،بسا اوقات بادِ بخاری کی تشریف آوری ہوتی ہے۔۔۔۔!!!
فی زمانہ میرے ہمسایوں کے جیسے افراد کا حال دیکھ کر یہ محسوس ہوتاہے کہ جہاں ہم نے اور بہت سے اسباقِ انسانیت و حقوق فراموش کر دئیے ہیں،اُن ہی میں پڑوسیوں کے حقوق کا باب بھی شامل ہے۔۔۔!!!
آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” وہ ہم میں سے نہیں جس کا پڑوسی اُس کے شر سے محفوظ نہیں۔۔۔!!!“
ایک عورت جو باقاعدگی سے نماز پڑھتی حتٰی کہ راتو ں کو اٹھ اٹھ کر بھی،کثرت سے روزے رکھتی اورصدقہ و خیرات بھی کرتی،لیکن اُس کا پڑوسی
اُ س کی بدزبانی سے تنگ تھا،آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:” اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔۔۔!!!“
جبکہ ایک ایسی عورت جو نہ نماز باقاعدگی سے پڑھتی ،نہ کثرت سے روزے رکھتی ،نہ صدقہ و خیرات پر توجہ دیتی لیکن ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتی ،سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:”یہ عورت جنت میں جائے گی۔۔۔!!!“
آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق بتاتے ہوئے فرمایا:”اگر وہ مدد کے خواستگار ہوں تو اُن کی مدد کرو،اگر اُدھار مانگیں تو انھیں دو،اگر وہ غریب ہوں تو اُن کی ضروریات پوری کرو،اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہوں تو انھیں تسلی دو ،کامیابی پر مبارک باد دواور حوصلہ افزائی کرو۔بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کو جاو¿ ،وفات پا جائیں تو اُن کی تدفین میں شرکت کرو۔اپنے گھر کو اتنا اونچا تعمیر مت کروکہ جس سے تمھارے پڑوسی کے گھر کی ہوا رُکے۔۔۔!!!“
مندرجہ بالا تمام باتوں میں سے شاید ہی کوئی بات ہمیں یاد ہو ،عمل سے تو ہم یوں بھی بے بہرہ ہیں۔اگر کوئی پڑوسی ایک سے دوسری بار ٹھنڈا پانی ہی مانگ لے تو تیوریوں میں بل پڑ جاتے ہیں،کسی معاملے میں مدد کیا کریں گے،اُدھار کو محبت کی قینچی سمجھا جاتا ہے۔اول تو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ ارد گرد کون بھوکا سو رہا ہے اوراگر کسی اللہ کے نیک بندے کو معلوم ہو بھی جائے اور وہ اپنا فرض نبھانے کے لئے آگے بڑھے تو اسے ہی شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جانے لگتا ہے کہ جانے اسے اس گھر اورا س کے مکینوں سے کیا لالچ ہے۔۔۔!!!
دوسرے کی کامیابی پر جلن ،حسد اور کڑھن کے سبب اپنا کئی سیر خون بآسانی جلالیں گے لیکن خود بھی محنت کر کے اُس مقام تک پہنچنے کو ترجیح نہیں دیں گے۔۔۔۔!!!
بیمار کی عیادت کو جائیں تو مفید مشوروں اور اپنی لاعلمی حکمت جھاڑنے میں رَتی بھر کی تاخیر کرنا گناہِ کبیرہ گردانتے ہیں ۔کبھی کہیں کسی مریض سے دس قدم کی دوری برقرار رکھی جاتی ہے کہ خدانخواستہ اُسے چھوت کی بیماری ہے جو عیادت کے لئے آنے والے کو بھی اپنی شکنجے میں جکڑ لے گی ،تو کہیں مریض کے ساتھ ایسے لگ کر بیٹھا جاتا ہے کہ جیسے یک جان دو قالب ہوں۔۔۔۔۔!!!
مریض کی عیادت کا دورانیہ مختصر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے لیکن ہمارے ہاں اکثریت آنے کے بعد جانا بھول جاتی ہے۔ایک کے بعد دوسرے،دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے قصے کی گاڑی ایسی چھوٹتی ہے کہ اُس کا آخری مقام ہی کہیں گم ہو جاتا ہے۔کچھ لوگ مریض سے بے پناہ عقیدت و محبت اور بے لوث خلوص کے مظاہرے کے طور پر یوں جڑ کر بیٹھتے ہیں کہ جیسے ذرا جو جنبش خود کو دی فریضہ روٹھ جائے گا۔۔۔۔!!!
تدفین میں شرکت کرنے والی خواتین کا حال خصوصاََ یہ ہوتاہے کہ کون کیاکہہ رہی تھی،کیا کر رہی تھی؟ کون آکر کس سے ملی ،کس نے کسے گلے لگایا۔کس نے کس کا دل جلایا۔بریانی میں بوٹیاں کم تھیں ،قورمہ بد مزہ !تھا۔معلوم نہیں کس سے پکوایا تھا۔۔۔
یہاں تو عمارتیں اتنی بلند تعمیر کر لی جاتی ہیںکہ ساتھ والوں کے گھر کی ہوا کے ساتھ ساتھ اگر حقہ پانی بھی بند ہوجائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ اپنا آرام زیادہ معنی رکھتا ہے۔۔۔!!
ہمیں پڑھایا سکھایا کیا گیاتھا ،ہم نے اَزبر کیا کیاہے۔ہمیں بنایا کیا گیا تھا،ہم ڈھل کس سانچے میں گئے ہیں۔سب سے زیادہ افسوس کا
مقام یہ ہے کہ خود ہمیں اِس رائیگانی کا احساس تک نہیں ہے۔وقت رہتے غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں تو بہتر ہے،عمل کی کنجی کو لگا زنگ اُتر سکتا ہے کہ مہلت ابھی ختم نہیں ہوئی تا کہ آپ کے ہمسائے یہ کہہ سکیں
ہے امن و محبت کا یہاں پہ بسیرا
ہے مستقل خوشیوں کا،یہاں پہ ڈیرا
چوٹ لگتی ہے مجھ کو درد سب کو ہے ہوتا
پھر چین کسی پل نہیں کسی کو ملتاکرے کیسے مداوا بنائے سلسلے کوئی
!سکون و عافیت کے ہالے ہمارے پڑوسی۔۔۔۔
مامن مرزا

 

Racer_Fashion

4 responses on “!!!ہمارے پڑوسی۔۔۔۔۔۔۔ by Mamin Mirza

  1. Uzmee

    salam. kia hi baat hai.kitna aala aap ne tehrir kar dia. zindgi ke ek ek pehlu pe jo hamsaye se talluq rakhta hai ap ne roshni dali. shroo to mazah liye dilchasp raha aur aakhir sabaq amoz. bohat khob.aur ka intizar hai. shu

  2. admin

    Mamin Mirza ji..bohot aalaa. bohot khoob.. hamesha ki tarha dilchasp aur qaabil-e-tareef tehreer…aur likhiy

.
.
%d bloggers like this: