(سلسلہ وار مشاہدات گفتگو ( اپنے دل میں جھانک

(سلسلہ وار مشاہدات گفتگو ( اپنے دل میں جھانک

logo

میرا سوال ہے .تمام ایک  الله کے ماننے والوں سے

 

تم کون ہو.

تم سب الله کے ماننے والوں کا جواب ہے

ہم مسلمان ہیں

میرا پھر آپ لوگوں سے سوال ہے

آپ کا مذہب کیا ہے

آپ کا ایک ہی جواب ہوگا

ہمارا مذہب اسلام ہے

میرا پھر آپ لوگوں سے سوال ہے

کہ کیا آپ لوگ اچھے مسلمان ہونے کے لئے جتنا ممکن ہو سکے نیک کام کرتے ہیں، فرائض ادا کرتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور کیا آپ برائی سے روکتے ہیں ؟

آپ میں سے بہت سے لوگ سوچ میں پڑ جایئں گے ، کوئی سوچے کا کہ میں نماز ادا کرنے میں سستی کرتا ہوں، کوئی سوچے گا کہ میں نیکی کا حکم تو دیتا ہوں، پر خود اتنا عمل نہیں کرتا جتنا کے لوگوں کو کرنے کا کہتا ہوں . کوئی سوچے گا کہ میں برائی سے روکتا ہوں ، پر خود اپنے نفس پر اتنا کام نہیں کر سکا . مگر پھر بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ جتنا ممکن ہو اپنے اعمال کو ایک اچھے مسلمان ہونے کے ناتے اچھا ہی رکھوں .

پھر میرا آپ سب سے ایک اور سوال ہے ، کہ کیا الله پاک کو ماننے کے لئے قران پاک میں کہیں بھی یہ شرط ہے کے مجھے ماننے والا صرف اہل تشحیح ہو یا صرف اہل سنت ہو . فرقوں میں تقسیم ہو ؟

آپ کا جواب ہوگا نہیں

کیا  میرے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ص نے کہیں بھی یہ تعلیم فرمایا کہ اے مسلمانوں تم فرقوں میں بٹ جاؤ ؟

آپ سب کا جواب ہوگا نہیں

کیا میرے پیارے نبی ص کے نواسے اور حضرت علی رضی الله تالا نے کبھی یہ فرق رکھا  ؟

آپ لوگوں کا جواب ہوگا نہیں .

میرا پھر آپ لوگوں سے سوال ہوگا کہ کیا آپ سب مسلمان ان کو ماننے والے نہیں ؟

آپ کا جواب ہوگا کے ہم سب ان سب کو ماننے والے ہیں

 

تو مجھے بتائیے یہ شیہ سنی کا فرق کہاں سے آ گیا

ہمارا الله ایک

ایمان ایک

قران ایک

پھر ہم الگ الگ کیسے ہو گئے ؟

چلیں ہو گئے .میں یہ تفریق کا سوال بھی ختم کرتی ہوں . پر ایک اور سوال پوچھنا چاھونگی

کے خود کو مسلمان کہنے والو

مجھے یہ بتاؤ کہ  کیا تم پر یہ فرض ہے کہ ایک دوسرے کی جان لو ؟

کیا تم پر یہ فرض ہے کہ جلوس ، جلسے کرو اور مسلمان دشمن عناصر کو تمہارے خلاف ہتھکنڈے استعمال کرنے کا موقع دو ؟

ہم اپنے دل میں اپنے اللہ کو ، اپنے ایمان کو سلامت رکھ سکتے ہیں .

کیا اسکے لئے یہ ضروری ہے کہ بے موت مارے جانے کے لئے ، مسلمان کا مسلمان دشمن ہو جانے کے لئے ایک جگہ اکھٹے ہوں .

کیا کہیں بھی ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم الله کے نام کے علاوہ کسی اور نام کے لئے قربان ہوں ؟

ہم پر جائز نہیں کہ ہم الله کے سوا کسی اور نام پر قربانی دیں .

ہم پر جائز نہیں کہ ہم الله کے نام کے سوا کسی اور پر جان دیں .

 

پھر میرا یہ سوال ہے تم مسلمانوں سے .

کہ یوم عاشور کے دن ، یا اسی طرح کسی اور مسلمانوں کے مجمے میں بے نام موت ہم کیوں کسی کی جان لیتے ہیں؟

 ہم کیوں قتل کر دیئے جاتے ہیں؟

تم اہل تصحیح یا اہل سنت میں سے کوئی ایک بھی مندرجہ ذیل روایت پر اختلاف کرے گا ؟

کہ


ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ آنسو بہاتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کپڑے کے کونے سے آنسو پونچھتے ہوئے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان رشتہ اخوت و بھائی چارہ قائم کیا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا؟‘‘
ان کا یہ محبت بھرا شکوہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، انہیں اپنے ساتھ بٹھایا پھر اپنے سینہ سے لگا کر فرمایا ’’تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے مجمع عام میں خطاب کر کے اعلان فرمایا:
’’لوگو! یہ علی میرا بھائی ہے یہ علی میرا بھائی ہے‘‘

(رواہ الترمذی ۳۶۵۴)

 

نہیں ..

آپ میں سے کوئی بھی اختلاف نہیں کرے گا .

کیا اس روایت سے آپ یہ درس لیتے ہیں کہ ہم مسلمان ایک دوسرے کی جان لینے کے لئے ہیں ؟

وحدت کے لئے پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم)کا بیان کیا ہوا راستہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم)امت مسلمہ کے مستقبل اور اس کے درمیان اختلاف کے ایجاد ہونے سے باخبر تھے لہذا مسلمانوں کو تفرقہ بازی اور اختلاف کے تلخ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں فرمایا:

 

الف: امت اسلام کے درمیان اختلاف کی پیشینگوئی

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم)امت مسلمہ کے مستقبل اور اس کے درمیان اختلاف کے ایجاد ہونے سے باخبر تھے لہذا مسلمانوں کو تفرقہ بازی اور اختلاف کے تلخ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں فرمایا:

تفرقت الیہود علی احدی وسبعین فرقة او اثنین و سبعین فرقة و النصارٰی مثل ذٰلک و تفترق اُمّتی علی ثلاث و سبعین فرقة۔

ترجمہ: جس طرح امت موسی وعیسی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئیں اسی طرح میری امت بھی تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔(١)

اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

کلهم فی النار الا ملة واحدة. ایک فرقہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔(٢)

————–

(١سنن ترمذی ٤:٢٧٧٨١٣٤، ابواب الایمان، باب افتراق الامة؛ مسند احمد٢:١٢٠٣٣٣٢؛ سنن ابن ماجہ ٢:٣٩٩١١٣٢١. ترمذی نے کہا ہے: ” حدیث ابی ہریرة حسن وابو ہریرہ کی حدیث حسن ہے” سنن ترمذی ٤:٢٧٧٨١٣٤۔

وہابی عالم ناصر الدین البانی کہتا ہے: یہ حدیث صحیح ہے. سلسلة الاحادیث الصحیحة ١:٢٠٤٣٥٨ اور ٣: ١٤٩٢٤٨٠۔

حاکم نیشاپوری کہتا ہے:” ہٰذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ”۔یہ حدیث مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے” مستدرک حاکم ١:١٢٨ اور ٤:٤٣٠۔

نیز ہیثمی کہتا ہے: ” یہ حدیث صحیح ہے” مجمع الزوائد ١:١٧٩ اور ١٨٩۔

(٢سنن ترمذی ٤:٢٧٧٩١٣٥؛ مسند احمد ٣:١٤٥؛ مستدرک حاکم ١: ١٢٩؛ مجمع الزوائد ١: ١٨٩ اور ٦:٢٣٣. مصنف عبد الرزاق صنعانی ١٠: ١٥٥؛ عمرو بن ابی عاصم، کتاب السنة: ٧؛ کشف الخفاء عجلونی ١:١٤٩ اور ٣٠٩۔

اور اس میں بھی کسی قسم کی تردید نہیں ہے کہ امت مسلمہ کااہم اختلاف امامت کے مسئلہ پرتھا جیسا کہ مشہور عالم اہل سنت شہر ستانی لکھتے ہیں :

واعظم خلاف بین الامة خلاف الامامة ، اذماسل سیف فی الاسلام علی قاعدة دینیة مثل ماسل علی الامامة فی کل زمان (١)

امت اسلام کے درمیان سب سے بڑااختلاف امامت کے بارے میں ہوااورکبھی بھی کسی دینی مسئلہ پراس قدر تلواریں میان سے نہ نکلیں جس قدر مسئلہ امامت پر۔

یہاں پہ یہ سوال پیش آتا ہے کہ وہ اسلامی حکومت جس کی تأسیس کیلئے پیغمبر (صلی الله علیه و آله وسلم) نے مسلسل تئیس سال زحمتیں اٹھائیں کیااس کے مستقبل کے بارے میں کوئی اقدام نہ کیا؟

کیا امت مسلمہ کی سر پرستی اور ہدایت کیلئے اپنے جانشین کا انتخاب کیے بغیر دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہوگئے؟

کیا رسول خدا (صلی الله علیه و آله وسلم) نے تفرقہ بازی اور اختلاف سے بچنے کی کوئی راہ معین نہ فرمائی؟

یہ اور اس طرح کے سینکڑوں سوالات ایسے افراد سے صحیح جواب کے منتظر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم)نے اپنے بعد کسی کو جانشین معین نہیں فرمایا بلکہ یہ کام اُمت کے سپرد کرکے چلے گئے۔

 


قرآن و عترت سے تمسک ہی وحدت کی تنہا راہ
:

شیعہ و سنی کتب کی ورق گردانی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ رسالت مآب (صلی الله علیه و آله وسلم)نے امت مسلمہ کو اختلاف سے بچنے اور وحدت ایجاد کرنے کی راہ دکھا کر ہر شخص کی ذمہ داری معین فرمادی۔

آنحضرت(صلی الله علیه و آله وسلم) نے قرآن و اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے تمسک ہی کو وحدت کا تنہا سبب بیان فرمایا ہے۔

یہ کہا جاتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان وحدت اور تقریب مذاہب کا منحصر ترین راستہ پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم)کی وصیت پر عمل پیرا ہونا ہے اور وہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے تمسک ہے جو ہدایت اور ہر طرح کی ضلالت و گمراہی سے بچانے کا ضامن ہے۔

رسول گرامی اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم)نے بارہا لوگوں کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے متمسک رہنے کا حکم فرمایا:

انی تارک فیکم ماان تمسّکتم بہ لن تضلوا بعدی، احدھما اعظم من الآخر، کتاب اللہ حبل ممدودمن السماء الی الارض وعترتی اھل بیتی ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض، فانظرواکیف تخلفونی فیھما،(١)

————–

(١)صحیح ترمذی٥:٣٢٩، درالمنثور٧٦و٣٠٦الصواعق المحرقہ١٤٧و٢٢٦،اسدالغابہ ٢:١٢وتفسیرابن کثیر٤ : ١١٣.

 

میں تمہارے درمیان دو گرانبہا چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر ان دونوں کا دامن تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہونے پاؤگے ان میں سے ایک دوسری سے عظیم ہے کتاب خدا آسمان سے زمین کی طرف معلق رسی ہے اور میرے اہل بیت. یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھے سے جا ملیں۔

 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلاَ تَفَرَّقُوْا}(آل عمران)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں میں مت پڑو۔‘‘

{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ} بیشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘

رسول عربی e کا فرمان ہے :

عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : المسلم أخو المسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ ولا یحقرہ التقوی ھھنا ویشیر الی صدرہ ثلاث مرار بحسب امرئٍ من الشر أن یحقر أخاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ ۔ (رواہ مسلم )

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتاہے اورنہ بے مددگار چھوڑتاہے نہ اس کو بے یار اورنہ ہی اس کو حقیر سمجھتاہے۔ (تین بار اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاتقویٰ یہاں ہے ) انسان کے شر کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ، ہر مسلمان کا خون ، مال اور عزت دیگر مسلمانوں پر حرام ہے۔

 

کیا ہم مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ؟

کیا ہم ایک دوسرے کو بے مددگار چھوڑتے ہیں ؟

کیا ہم ایک دوسرے کو حقیر نہیں سمجھ رہے ؟

ان سوالوں کا جواب ہے کہ ہم مسلمان تو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے بیٹھے ہیں ، ایک دوسرے کی مدد تو دار کنار ہم تو ہم پلہ بھی نہیں سمجھتے ایک دوسرے کو .

 For All Topics Visit www.calmingmelody.com

کیا اسی  دن کے لئے قربانیاں دی گئی تھیں ؟

کیا دین اسلام کا علم اسی لئے ہم مسلمانوں کے ہاتھ میں تھما کر جانوں کا نظرانہ پیش کیا گیا تھا .

ہم خود زمیدار ہیں .

ہم خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں .

 

ذرا اپنے دلوں میں جہاں کر دیکھو اے مسلمانو

کیا تم مسلمان ہو ؟ 

 

.