غم نہ کریں…مایوس نہ ہوں

غم نہ کریں…مایوس نہ ہوں

لا تحزني
غم نہ کریں



(ڈاکٹر عائض القرنی)



غم نہ کریں..تلخیوں سے چھٹکارا ہرگز غم کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا..مایوس نہ ہوں..مایوسی سے طبیعت پھر جاتی ہے…جبکہ
امیدوں کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں..

غم نہ کریں..آزمائش تو گناہوں کو ختم کرتی ہے۔مصیبتیں تو اللہ کی طرف سے امتحان ہیں تاکہ یہ پتا چل سکے کون راضی ہوتا ہے اور
کون ناراض؟!جیسے کہ عربی شاعر نے کہا تھا:
فاللہ ینعمنا بالبلوی یمحصنا
من منا یرضی او یضطرب
آزمائشیں تو اللہ کی نعمت ہیں تاکہ ہمارے گناہ معاف ہوں اور یہ پتا چل سکے کہ کون آزمائش پڑنے پر راضی ہوتا ہے اور کون پریشان؟!
آپ کس وجہ سے دکھی ہیں؟!

اگر آپ کو کسی بیماری کا دکھ ہے 'تو جان لیں کہ یہ آپ کے لیے بھلائی ہے۔ بیماری کا انجام صحت یابی ہی ہے۔نبی ۖ نے فرمایا:''من یرد اللہ بہ خیرا یصب منہ'' اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو آزماتا ہے۔''اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:''واذا مرضت فھو یشفین''''جب میں بیمار ہوتا ہوں اللہ مجھے شفا دیتا ہے''

اگر آپ کے غم کرنے کی وجہ ماضی میں کسی غلطی کا سرزد ہونا ہے تو آپ پر آپ کی جان سے بھی زیادہ رحم کرنے والے رب کی بات پر غور کریں:''آپ کہہ دیجیے اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہواللہ تمام گناہ معاف کرنے والا ہے''

اگر آپ اپنے خاوند یا کسی رشتہ دار کے ظالمانہ رویے کی وجہ سے دکھی ہیں توجان لیں کہ اللہ نے آپ کی مدد اور ظلم کرنے والے کو ذلیل و رسوا کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ مظلوموں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:
میری عزت و جلالت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا چاہے تھوڑی دیر سے
اور فرمایا:

{قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ} (1) سورة المجادلة
یقینا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا تھا بے شک اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے والا ہے


اگر غم کرنے کی وجہ فقیری ہے تو صبر کریں بلکہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرتے ہوئے پرسکون اور مطمئن ہو جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ } (155) سورة البقرة
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے ،بھوک سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیں


اور اگر غم کرنے کی وجہ لڑکوں کا نہ پیدا ہونا ہے تو سن لیں کہ آپ پہلی خاتون نہیں جسکے ہاں لڑکے نہیں ویسے بھی آپ اللہ کی مخلوق کے بارے میں مسئول نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاء يَهَبُ لِمَنْ يَشَاء إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاء الذُّكُورَ} (49)
أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَن يَشَاء عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ} (50) سورة الشورى
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے 'وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے'جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔یا انہیں جمع کر دیتا ہے بیٹے بھی بیٹیاں بھی۔اورجسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے'وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے


تو کیا آپ اپنی مرضی سے بے اولاد ہیں یا یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اس نے آپ کو ایسا بنایا؟؟کیا آپ کو اللہ کے حکم پر اعتراض کرے کا حق حاصل ہے؟؟کیا آپ کے خاوند یا کسی رشتہ دار کو آپ کی ملامت کرنے کا حق ہے؟اگر کوئی آپ کو ملامت کرتا ہے تو وہ اللہ پر اعتراض کررہا ہے..آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔

جب ساری مرضی ہی اللہ کی ہے تو غم کس چیز کا ہے؟آزمائشیں چاہے اپنی حدیں پار کر جائے لیکن یاد رکھیے کہ یہی آپ کے لیے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔رات بے شک لمبی ہو جائے فجر تو ضرور طلوع ہو گی۔


1)آج پر نظر رکھیں:

زندگی میں اپنا شعار یہ بنا لیں ''جو گزر گیا سوگزر گیا اور جو ہونے والا ہے وہ آپ سے چھپا ہوا ہے ''یعنی جس گھڑی میں آپ جی رہ ہیں صرف وہی گھڑی آپ کی ہے۔اس لیے بس آج اور ابھی پر نظر رکھیں۔
اس سے اچھا اور خوبصورت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے
:
جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام ہونے کا انتظار نہ کرو۔صحت یابی میں بیماری کے لیے بھی تیاری رکھو اور زندگی میں موت کو یاد رکھو (بخاری)

ماضی جیسا بھی ہو بھول جائیں۔دکھ بھرا ہو یا خوشیوں والا'کیونکہ زخموں کا علاج ماضی کرنا نہیں بلکہ ماضی میں جینے سے اس کے غموں اور المیوں کو یاد کرنے سے زندگی تنگ اور بے چینی بڑھ جاتی ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ دو وقتوں کے درمیان جی رہی ہیں:

1)ماضی :جو کہ اچھا یا برا کسی بھی طرح سے گزر چکا ہے۔ماضی کا مطلب ہے عدم ۔یعنی اس کا کوئی وجود نہیں۔کیونکہ یہ گزر چکا ہے یعنی اب موجود نہیں ہے ۔ ہاں!البتہ صرف آپ کے ذہن میں اس کا وجود ہے۔جی ہاں!! صرف آپ کے ذہن میں۔جب وہ ہے ہی نہیں تو غموں کی ذکشنری سے اس کا نام نکال ہی دینا چاہیے۔ماضی کے گھڑے مردے اکھاڑنے سے کیا حاصل؟!

2)مستقبل:وہ آپ سے چھپا ہواہے۔مجھول ہے۔آپ کی سوچ کے قانون اُ س پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے۔نہ ہی آپ کی عقل کے اندازے اُس کے مطابق چل سکتے ہیں۔ کیونکہ مستقل ایسا پوشیدہ چھپا ہوا ہے جس کی حقیت کوئی انسان کبھی جان ہی نہیں سکتا۔جیسا کہ فرمایا:

{وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ} (34) سورة لقمان
نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا
{قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ} (65) سورة النمل
کہہ دیجیے آسمانوں والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا


حاصل کلام یہ ہے کہ ماضی کا تو کوئی وجود ہی نہیں اور مستقبل آپ سے پوشیدہ ہے۔

آپ اپنا دل ماضی کے سایوں اور تفکرات میں کیوں گھیرتی ہیں! اور کیوں مستقبل کے لیے امیدیں اور توقعات لگاتی ہیں؟! اپنی زندگی کو ہر لمحہ با لمحہ،گھڑی با گھڑی اور دن با دن گزاریں۔
ماضی کو بھول جائیں ۔پرانی باتوں کا دریا میں بہا دیں۔اپنے دل میں موجودہ ہر دکھ و غم کے صفحے پھاڑ ڈالیں ۔اور مستقبل کو کبھی نہ سوچیں ۔ہمیشہ خوش زندگی گزاریں گی۔دیکھیے نبی ۖ نے کس طرح دکھ و غم سے پناہ مانگی:

اللھم انی اعوذبک من الھم والحُزن العجز والکسل والجُبن والبُخل وقھر الدین وغلبة الرجال
اے اللہ میں دکھ و بے چینی ،بڑھاپے اور سستی ،ڈرپوکی اور کنجوسی ، قرض داری اور آدمیوں کے غلبے سے تیری پناہ میں آتا ہوں (رواہ البخاری ومسلم)


ہم و حزن میں یہ فرق ہے کہ اگر مستقبل کی فکر پریشان کرتی ہے تو ہم ہے اور اگر ماضی کی فکر پریشانکرتی ہے تو حزن ہے۔

آج کا دن آپ کا ہے۔آپ اپنی ساری توجہ ، ساری صلاحیت ، خلاقیت ،اور ذہانت صرف آج پر لگا دیں۔خوش رہیں ،نیک کام کریں،خیر کے بیج بوئیں،احسان کریں۔تاکہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے آپ کے نیک کام ہی پیش کیے جائیں۔

{يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا} (30) سورة آل عمرانً
جس دن ہر نفس(شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی برائیوں کو موجود پا لے گا اور آرزو کرے گا کہ کاش اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی

ہر لمحہ اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔قرآن مجید کی تلاوت کریں'اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں ،نماز پڑھیں ،اللہ کا ذکر کریں ، علم حاصل کریں ۔غرض ہر وقت کوئی نہ کوئی نیک کام کرتے رہیں۔اس طرح آپ کا دن فرحان و شادمان گزرے گا۔

2)اللہ کی عبادت خوش دلی سے کریں:

غم نہ کریں.. مصیبت پہنچتے ہی یہ دعا پڑھیں:
انا للہ وانا الیہ راجعون اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا
صدمہ پہنچتے ہی آپ کی زبان سے نکلنے والے پہلے الفاظ یہی ہونے چاہیں…ایسا کرنے سے آپ کے لیے مصیبت رحمت بن جائے گی،آزمائش سبب مغفرت بن جائے گی ، ہلاکت باعث برکت بن جائے گی۔غور کریں اللہ تعالیٰ کس طرح مصیبت کا ذکر اپنی کتاب میں کرتے ہیں:

{وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ } (155)
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ } (156) سورة البقرة
''اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو ۔ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں 
فقیری ہو یا حاجت،فاقہ ہو یا کوئی بیماری یعنی ہر آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی خوشخبری یاد رکھیں۔

3)آزمائش کا راز جانیں:

غم نہ کریں …دنیوی مشکلات زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہیں ۔آزمائش تو ہماری زندگی کا ایسا حصہ ہے کہ اس کو الگ کرنا ہی ناممکن ہے۔امیر ہو یا غریب،بادشاہ ہو یا غلام ،نبی ہو یا ولی غرض ہر انسان کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔البتہ ہر کسی کو اس کے حال کے مطابق اور اس کے درجات کے مطابق آزمائش ملتی ہے۔

{لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ} (4) سورة البلد
تحقیق ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

یعنی آزمائش کا راز ہی یہی ہے:

{وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِينَ} (31) سورة محمد
اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں۔ اور تمہارے حالات جانچ لیں
{تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} (1) سورة الملك
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے 


غم نہ کریں ..ہر آزمائش میں یہ سوچیں کہ آپ اللہ کے سامنے امتحان کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔ثابت قدم ہو جائیں۔اپنے آپ کو سنبھالیں ۔سوچیں،غور کریں۔ٹھنڈی ہو جائیں۔ جیسے کوئی آپ کے کان میں سرگوشی کر رہا ہے کہ آپ کو ایک اور آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے فیل ہونے سے بچیں۔نبی ۖ کی اس بات پر غور کریں:

من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین
اللہ جس سے بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔
اور پھر
من یرد اللہ بہ خیرا یصب منہ
اللہ جس سے بھلائی چاہتا ہے اس کو آزماتا ہے۔

یعنی طالب علم اور آزمائش میں مبتلا انسان دونوں کے لیے اللہ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہوا ہے۔سبحان اللہ! یہ تو بہت غور و فکر کرنے کا مقام ہے۔دیکھیں علم کی کتنی فضیلت ہے ۔اللہ تعالیٰ صرف اپنے محبوب بندوں کو علم کی راہ پر لگاتا ہے ۔جی ہاں! اور آزمائش بھی اسی طرح بہت فضل و شرف کی حامل ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اپنے محبوب بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے گناہ معاف ہو جائیں ،ان کی مشکلات آسان ہو جائیں ،ان کی برائیاں دور ہو جائیں۔جیسا کہ فرمایا:

{لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} (1) سورة الطلاق
''تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے ۔

ان اللہ اذا احب قوما ابتلاھم فمن رضی فلہ الرضی ومن سخط فلہ السخط (بخاری)
اللہ تعالیٰ جس قوم کو پسند کرتا ہے انہیں آزماتا ہے ۔جو خوش رہے اس کے لیے خوشی ہے اور جو ناخوش ہو اس کے لیے نا خوشی۔

4)پریشان نہ ہوں

بھوک کے بعد شکم سیری ،پیاس کے بعد سیاربی اور مرض کے بعد صحت یابی ہے۔گم شدہ منزل پائے گا مشقت اٹھانے والا آسانی حاصل کرے گا ۔اندھیرے چھٹ جائیں گے۔جی ہاں! یہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا:

{فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا} (5) {إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا} (6) سورة الشرح
ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے ۔اور بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

غم نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے آیت میں ''آسانی '' کا ذکر دو دفعہ اسی لیے کیا کہ آپ کا دل مطمئن ہو جائے،آپ کا سینہ کھل جائے۔نبی ۖ نے فرمایا:
ایک تنگی 'دو آسانیوں پر بھاری نہیں پڑے گی''جیسے رات کے بعد دن ہے ویسے ہی تنگی کے بعد آسانی ہے۔

5)اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کریں۔

..جب آپ غم و الم سے دو چار ہوں تو ..اپنا معاملہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حوالے کر دیں۔حدیث میں ہے :

من جعل الھموم ھما واحدا ھم المعاد ،کفاہ اللہ سائز ھمومہ..ومن رشبعت بہ الھموم من احوال الدنیا لم یبال اللہ فی ای اودیة ھلک
جس نے اپنا غم صرف آخرت کے دن کو بنایا اللہ نے اس کے سارے غم دور کر دیے اور جس کے غم دنیا کی زندگی کے لیے بٹ گئے پھر اللہ کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ کس غم میں ہلاک ہو جائے

غم نہ کریں..رزق تقسیم ہوچکا،آپ کی تقدیر لکھی جاچکی ہے۔دنیا کی زندگی تو ذرہ بھر غم کا حق نہیں رکھتی کیونکہ اس نے تو فنا ہو جانا ہے۔

{وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ} (185) سورة آل عمران
اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے

جب آپ کو کوئی غم پہنچے فورا اللہ کی طرف لوٹیں۔یہ ذکر کثرت سے کریں:
اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث
رب انی مغلوب فانتصر

یہ سب شرعی ذکر ہیں ان کے پڑھنے سے گناہ جھڑتے ہیں ۔ مصیبتیں دور ہوتی ہیں ۔

استغفار کے ذریعے سکون تلاش کریں.. استغفار سے خوف، تنگی، حزن و ملل کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔سچے دل سے استغفار کریں۔ایک دفعہ ،دو دفعہ، سو دفعہ، دو سو دفعہ ،ہزار وں دفعہ…بلکہ بغیر گنے استغفار کریں۔استغفار کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوں' نفس کو سکون اور دل کو سلامتی حاصل ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ} (222) سورة البقرة
کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اذکار پڑھ کر دل کو اطمینان پہنچائیں…تسبیح کریں، نبی ۖ پر درود پڑھیں، قرآن مجید کی تلاوت کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} (28) سورة الرعد
اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاء وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ} (82) سورة الإسراء
اور ہم قرآن (کے ذریعے)سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے

غم نہ کریں…اللہ تعالیٰ سے دعا کریں …گھر کے کسی حصے میں اکیلی ہوجائیں ،گڑاگڑائیں ،اللہ کی چوکھٹ پر سر جھکائیں،روئیں ، مانگیں ،اللہ سے بات کریں اس سے سرگوشی کریں ، رات کے اندھیروں میں اور نمازوں کے بعد چپکے چپکے اللہ تعالیٰ سے عاجزی سے دعا کریں۔

{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ} (186) سورة البقرة

اور اے پیغمبرجب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا
مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں

غم نہ کریں…مایوس نہ ہوں..

{وَلاَ تَيْأَسُواْ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِنَّهُ لاَ يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ } (87) سورة يوسف
اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ اللہ کی رحمت سے بے ایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں

اندھیری راتیں جلد ہی روشن ہو جائیں گی … مسکراہٹیں واپس آ جائیں گی .. صرف صبر سے انتظار کریں ..دعا اور ذکر کا ساتھ نہ چھوڑیں .. اللہ تعالیٰ سے اچھا ظن رکھیں..

وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين

.