اولاد

اولاد

Aulad ki tarbiyat

عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ‏ تَجِي‏ءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اطْفَالُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ عَرْضِ الْخَلَائِقِ لِلْحِسَابِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَ ی لِجَبْرَئِيلَ ع اذْهَبْ بِهَؤُلَاءِ الَ ی الْجَنَّةِ فَيَقِفُونَ عَلَ ی ابْوَابِ الْجَنَّةِ وَ يَسْالُونَ عَنْ ابَائِهِمْ وَ امَّهَاتِهِمْ فَتَقُولُ لَهُمُ الْخَزَنَةُ ابَاؤُكُمْ وَ امَّهَاتُكُمْ لَيْسُوا كَامْثَالِكُمْ لَهُمْ ذُنُوبٌ وَ سَيِّئَاتٌ يُطَالَبُونَ بِهَا فَيَصِيحُونَ صَيْحَةً بَاكِينَ فَيَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَ ی يَا جَبْرَئِيلُ مَا هَذِهِ الصَّيْحَةُ فَيَقُولُ اللهُمَّ انْتَ اعْلَمُ هَؤُلَاءِ اطْفَالُ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُونَ لَا نَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّ ی يَدْخُلَ ابَاؤُنَا وَ امَّهَاتُنَا فَيَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَ ی يَا جَبْرَئِيلُ- تَخَلَّلِ الْجَمْعَ وَ خُذْ بِيَدِ ابَائِهِمْ وَ امَّهَاتِهِمْ فَادْخِلْهُمْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي

اپ نے فرمایا: قیامت کے دن مؤمنین کے بچےّ اہل محشر کے سامنے حساب دینے ائیں گے اللہ تعالیٰٰ جرةئیل ؑ سے کہے گا ان کو جنت میں لے جاؤ تو وہ بچےّ جنت کے دروازے پر کہیں گے: کہاں ہیں ہمارے والدین؟ ان سے کہاجائے گا: تمہارے لئے خزانہ بہشت ہے لیکن تمہارے والدین تمہاری طرح نہیں تھے، ان کے بہت سارے گناہ تھے جن کا ان سے حساب طلب کیا جائے گاجب یہ سنیں گے تو وہ سب چیخنے اور چلانے لگیں گے اللہ تعالیٰٰ جبرئیل سے اس کی وجہ پوچھے گا تو جبرئیل جواب دے گا: یا اللہ! توہی بہترجانتا ہے یہ مؤمنین کے بچےّ ہیں جو کہتے ہیں کہ جب تک ان کے والدین بھی جنت میں داخل نہیں ہوتے اس وقت تک یہ بچےّ بھی جنت میں داخل نہیں ہونگے اس وقت اللہ تعالیٰٰ کہے گا: اے جبرئیل ان کے والدین کو ان اہل محشر میں سے نکالیں تاکہ میری رحمت  کے طفیل میں ان کے بچےّ  ان کے ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل ہوجائیں

عَنِ النَّبِيِّ ص انَّهُ قَالَ‏ خَمْسَةٌ فِي قُبُورِهِمْ وَ ثَوَابُهُمْ يَجْرِي الَ ی دِيوَانِهِمْ مَنْ غَرَسَ‏ نَخْلًا وَ مَنْ حَفَرَ بِئْرا وَ مَنْ بَنَ ی لِلهِ مَسْجِدا وَ مَنْ كَتَبَ مُصْحَفا وَ مَنْ خَلَّفَ ابْنا صَالِحا

رسول خداﷺ سے روایت ہے کہ پانچ ادمی ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کا ثواب ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے:ایک وہ جس نے درخت بویا،دوسرا وہ جس نے  پانی کا کنواں کھودا، تیسرا جس نے مسجد بنائی، چوتھا وہ جس نے قران لکھا، پانچواں جس نے فرزند صالح چھوڑا

رَوَ ی فُضَيْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْاعْوَرُ عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع انَّهُ قَالَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ الَّا عَلَ ی الْفِطْرَةِ فَابَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ وَ يُنَصِّرَانِهِ وَ يُمَجِّسَانِه

امام صادق (ع) نےپیغمبر اسلام (ص)سے روایت کی ہے  کہ اپ نے فرمایا:دنیا میں انے والا ہربچہ فطرت (توحید) پر پیداہوتا ہےلیکن اس کے والدین یا اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں

وَ كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْانْصَارِيُّ يَدُورُ فِي سِكَكِ الْانْصَارِ بِالْمَدِينَةِ وَ هُوَ يَقُولُ عَلِيٌّ خَيْرُ الْبَشَرِ فَمَنْ ابَ ی فَقَدْ كَفَرَ يَا مَعَاشِرَ الْانْصَارِ ادِّبُوا اوْلَادَكُمْ عَلَ ی حُبِّ عَلِيٍّ فَمَنْ ابَ ی فَانْظُرُوا فِي شَانِ امِّهِ

جابر بن عبداللہ انصاریؒ مدینے میں انصار کے کانوںمیں یہ کہتے ہوئے گھوم رہے تھے: علی(ع) سب سے بہتر اور نیک  انسان ہیںپس جس نے بھی ان سے منہ پھیرا وہ کافر ہوگیا اے انصارو! تم لوگ اپنے بچوّں کومحبت علیؑ     کی تربیت دو،اگر ان میں سے کوئی قبول نہیں کرتا ہے تواس کی ماں کو دیکھو کہ وہ کیسی عورت ہے ایک اور حدیث میں فرمایا: اپنی اولادوں کو تین چیزوں کی تربیت دو: اپنے نبی(ص) اور اس کی ال پاک(ع) کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں اور قران مجید کی تعلیم دیں

.