زکوٰۃ

زکوٰۃ

zakat , the third pillar of islam

ابو طلحہ طاہری

زکواۃ مالی عبادت ہے اور اسلامی عبادت کا دوسرا رکن ہے۔ زکواۃ انسانوں کے دمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے۔ زکواۃ کا دوسرا نام صدقہ ہے جس کا اطلاق تعمیم کے ساتھ ہر مالی اور جسمانی امداد اور نیکی پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن فقہی اصطلاح میں زکواۃ صرف اس مال کو کہتے ہیں جو ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو۔حضور اقدس، نور مجسم حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ”بنی الاسلام علی خمس شہادۃ ان الا الٰہ الا اللہ وان محمد عبدہ و رسولہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکواۃ وتحج البیت ان استعطت الیہ سبیلا“۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلّی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا اور زکواۃ ادا کرنا اور حج کرنا اگر اس کی استطاعت رکھتا ہو۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زکواۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے نہایت سخت وعید فرمائی۔ وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیمٍ۔ (توبہ 34)ترجمہ: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔ ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر شاق ہوئی۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کہا میں تم سے مصیبت دور کردونگا۔ حاضر خدمت رسول اقدس ہوئے، عرض کی یا رسول اللہ! (صلّی اللہ علیہ وسلم) یہ آیت حضور کے صحابہ پر گراں معلوم ہوئی۔ فرمایا کہ اللہ عزوجل نے زکواۃ تو اس لیے فرض کی کہ تمہارے باقی مال کو پاک کردے اور مواریث اس لیے فرض کیے کہ تمہارے بعد والوں کے لیے ہو۔(مشکوٰۃ)
فرضیت زکواۃ

اہل ایمان پر زکواۃ سنہ 2 ہجری میں فرض ہوئی۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کا نیک اور رحیم دل پہلے ہی مسکینوں کا ہمدرد، غریبوں پر رحم کرنے والا، درد مندوں کا غمگسار تھا۔ اسلام میں شروع سے ہی مساکین اور غرباء کی دستگیری پر مسلمانوں کو خصوصیت سے توجہ دلائی جاتی تھی۔
ادائیگی زکواۃ کا فائدہ

زکواۃ ادا کرنے والے کو زکواۃ ادا کرنے سے مال کی محبت اس کے اخلاق انسانی کو مغلوب نہیں کرسکتی اور بخل و امساک کے عیوب سے انسان پاک رہتا ہے۔ اور یہ فائدہ بھی ہے کہ غربا و مساکین کو وہ اپنی قوم کا جزو سمجھتا ہے اور اس لیے بے حد دولت کا جمع ہوجانا بھی اس میں تکبر اور غرور پیدا نہیں ہونے دیتا۔ غرباء کے گروہ کثیر کو اس کے ساتھ ایک انس و محبت اور اسکی دولت اور ثروت کیساتھ ہمدردی اور خیر خواہی پیدا ہوجاتی ہے۔

مستحقین زکواۃ و صدقات

اللہ رب العزت کا فرمان ہےاِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقْرَآئِ وَالْمَسٰکِیْن وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا وَ المُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَ فیْ الرِّقَابِ وَالْغَارِمیْنَ وَفِی سَبیْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ۔ فرِیْضَۃٌ مِّنَ اللہِ۔ وَاللہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ ترجمہ: زکواۃ تو صرف ان کے لیے ہے جو فقیر، مسکین اور زکواۃ کے کام پر جانے والے اور جنکی دلداری مقصود ہے، نیز گردنوں کو آزاد کرانے اور مقروضوں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے، یہ سب فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔اس آیت کریمہ سے واضح ہوا کہ زکواۃ کے مستحق آٹھ ہیں۔ ایک فقیر (جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو)، دوسرا مسکین (جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو)، تیسرا تحصیل داران زکواۃ (جن کو زکواۃ اور صدقات وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو)، چوتھے نو مسلم لوگ، پانچویں غلاموں کی آزادی دلانے کے لیے، چھٹے ایسے قرضدار جو اپنا قرضہ نہ اتار سکتے ہوں، ساتواں ہر وہ کام جس میں عامۃ المسلمین کا فائدہ ہو جیسے مدارس وغیرہ، آٹھواں مسافر جس کی زاد راہ ختم ہوچکی ہو اگرچہ وہ دولت مند ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ وہ سفر کسی گناہ کی نیت سے نہ ہو۔ اس موقعے پر اس حدیث مبارکہ کو بھی ضرور ملاحظہ کیجیے:”ان الصدقۃ لاتحل لآل محمد انما ہی اوساخ الناس“۔ ترجمہ: صدقہ آل محمد (علیہ التحیۃ والثناء) پر حلال نہیں کیوں کہ یہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔ امام ابویوسف کا قول ہے کہ خاندان بنی ہاشم کے اغنیاء اپنے خاندان کے فقراء کو اپنی زکواۃ دے سکتے ہیں۔
اقسام زکواۃ

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں زکواۃ کی چھ قسمیں لکھی ہیں جانوروں کا زکواۃ، عشر، سونے چاندی کی زکواۃ، مال تجارت کی زکواۃ، دفینہ اور کانوں کی زکواۃ، صدقہ فطر۔
جانوروں کی زکواۃ

غنیۃ الطالبین میں محبوب سبحانی، قطب ربانی، امام العارفین حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پانچ اونٹوں کی زکواۃ میں ایک بھیڑ دے جو پشم دار اور چھ مہینے کی ہو، یا بکری دینا واجب ہے جو عمر میں ایک سال کی ہو۔ اور دس اونٹوں میں سے دو بکریاں دے اور پندرہ اونٹوں کی زکواۃ تین بکریاں دینی پڑتی ہیں، اور جو چھبیس اونٹوں کا مالک ہوگا اس کو ان میں سے ایک اونٹنی دینی پڑتی ہے جو اپنی عمر کا ایک سال طے کرچکی ہو، اگر اس پر قدرت نہیں رکھتا تو ایک اونٹ دے جس کی عمر کے دو برس گذر چکے ہوں۔ جس کے پاس چھتیس اونٹ ہوں ان میں سے سال کی ایک اونٹنی نکالے، اور چھیالیس اونٹ ہوں تو زکواۃ میں ایک اونٹ دے جس عمر تین سال ہوچکی ہو اور چوتھے سال میں چل رہا ہو، اکسٹھ اونٹ ہوں تو چار برس مکمل کرنے والا اونٹ، چھہتر اونٹوں ہوں تو دو برس کی دو اونٹنیاں اور اکانوے اونٹوں سے لے کر ایک سو بیس اونٹوں تک تین تین برس کے دو اونٹ۔ اس تعداد سے زائد ہوں تو ہر چالیس سے دو برس کی ایک اونٹنی اور ہر پچاس پر تین سال کا ایک اونٹ دے۔ جو تیس گائے کا مالک ہو وہ ایک سال کی عمر کا ایک بچہ دے چاہے نر ہو یا مادہ۔ چالیس میں سے دو برس کا بچہ،ساٹھ کا ہو تو ایک سال کے دو بچے، ستر ہوں تو ایک بچہ ایک سال کا ایک دو سال کا۔ اسی طرح ہر تیس گائے کی زیادتی پر ایک سال کا ایک بچہ دے، ہر چالیس کی زیادتی پر دو سال کا ایک بچہ دے۔ اور جس کے پاس چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک بکریاں موجود ہوں وہ زکواۃ میں ایک بکری نکالے، اس تعداد سے زیادہ ہوں تو ایک سے دو سو کی زیادتی تک دو بکریاں دے۔ اگر وہ سو سے زیادہ بڑھیں چاہے ایک ہی ہو، تو تین سے تک تین بکریاں دینی پڑیں گی۔ تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سینکڑہ میں سے ایک بکری نکال دے۔
عشر کی زکواۃ

احیاء العلوم میں امام غزالی فرماتے ہیں پیداوار کی غذا قسم ہو اور آٹھ سو سیر یعنی بیس من ہو، اس میں سے دسواں حصہ زکواۃ واجب ہے، اس سے کم پر کچھ نہیں۔ میووں اور روئی پر زکواۃ نہیں بلکہ اس جنس میں ہے جو غذا بنائی جاتی ہے۔ چھوہاروں اور کشمش میں زکواۃ ہے، بیس من ان کا ہونا معتبر ہے۔ شریکوں کے مال کو ایک دوسرے میں ملا کر پورا کرلیا جائیگا جس صورت میں شرکت حصص ہو۔
سونے چاندی

خالص چاندی ہو ایک سال گذر جائے تو اس کا چالیسواں حصہ زکواۃ دینا واجب ہے۔ یہ زکواۃ اس پر واجب ہے جس کے پاس کم از کم دوسو درہم چاندی ہو، اس سے کم ہو تو اس پر زکواۃ نہیں۔ اگر چاندی زیادہ ہو تو اس حساب سے زکواۃ اس پر بھی ہوگی، گو ایک درہم ہی زائد ہو۔ اسی طرح سونے کا نصاب بیس مثقال سونا سات تولہ اور دوسو درہم چاندی باون تولہ کے برابر ہے۔
مال تجارت

اس کا حال چاندی سونے کی زکواۃ کا سا ہے۔ یعنی چالیسواں حصہ واجب ہوتا ہے، اور سال اس وقت سے شمار ہوگا جس وقت سے نقد روپیہ سے مال تجارت خریدا اور وہ اس کی ملکیت میں آیا بشرطیکہ نقد مذکور مقدار نصاب ہوا۔ اگر وہ نصاب سے کم ہو یا اسباب کے بدلے میں تجارت کی نیت سے مال خریدا ہو تو ابتدا سال خریدنے کا وقت سے معتبر ہوگا۔
دفینہ اور کانوں کی زکواۃ

دفینہ سے مراد وہ مال ہے جو زمانہ کفر کا مدفون ہو اور ایسی زمین میں ہے کہ اسلام میں اس پر کسی کی ملک نہ ہوئی ہو۔ تو جو شخص اس دفینہ کو پائے تو چاندی اور سونے میں پانچواں حصہ لیا جائے۔ اور اس میں سال گذرنا معتبر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ماہ رمضان المبارک کا اعتبار بھی نہ ہو۔ کان کی چیزوں میں سوائے چاندی کے کسی چیز پر زکواۃ نہیں اور یہ دونوں جس وقت دفینہ نکال لیے جائیں تو چالیسواں حصہ لیا جائے گا۔
صدقہ فطر

جب کسی کے پاس بال بچوں اور بیبیوں کی روز مرہ خوراک سے زیادہ ہو تو وہ اس میں سے صدقہ فطر دے۔ عید کے دن اور اسکی رات اپنے نفس، بی بی، غلام، اولاد، ماں باپ، بہن بھائیوں، اپنے چچوں اور چچازادوں ترتیب وار جس قدر کوئی قریب ہو بشرطیکہ ان کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہو۔ اور اندازہ اس کا ایک صاع ہے جو وزن میں رطل عراقی ہے۔ یعنی ہندستان میں جو نمبری سیر مروج ہے اس کے اڑھائی سیر کھجوریں ہوں یا منقے یا گیہوں اور جو کا آٹا یا ان کے ستوں اور پنیر کے واسطے بھی ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔ صدقہ فطر اس غلہ سے دیں جو خود استعمال کریں یا اس سے بھی بہتر ہو۔ اسلام سے پہلے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ قرابت مندوں اور رشتہ داروں کو دینے سے اجنبی بیگانہ اور بے تعلق لوگوں کو دینا زیادہ ثواب کا کام ہے، اور اسکی وجہ یہ سمجھی جاتی تھی کہ اپنے لوگوں کے دینے میں کچھ نہ کچھ نفسانیت کا اور ایک حیثیت سے خود غرضی کا شائبہ ہوتا ہے۔ در حقیقت یہ ایک قسم کا اخلاقی مغالطہ اور فریب تھا۔ ایک انسان پر دوسرے انسان کے جو حقوق ہیں وہ تمام تر تعلقات کی کمی و بیشی پر مبنی ہیں۔ جو جتنا ہی قریب ہے اتنا ہی زیادہ آپ کے حقوق اس پر اور اس کے حقوق آپ پر ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو رشتہ داروں اور قرابت مندی کے فطری تعلقات بالکل لغو اور مہمل ہوجائیں۔انسان پر سب سے پہلے اسکا اپنا حق ہے، پھر اہل و اعیال کا۔ ان کے جائز حقوق ادا کرنے کے بعد اگر مال میں کچھ بچ جائے تو اس میں حصہ پانے کے سب سے زیادہ مستحق قرابت دار ہیں۔ چنانچہ وراثت اور ترکہ کی تقسیم میں اسی اصول کی رعایت کی گئی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور دست بستہ دعا ہے کہ اپنے محبوب نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کو ان تمام احکامات کے مصداق بنائے۔آمین یارب العالمین۔

[button color=”red” size=”medium” link=”http://calmingmelody.com/biblequran-science/” target=”blank” ]Bible,qura’n and science[/button]

[button color=”pink” size=”medium” link=”http://calmingmelody.com/fingure-fish/” ]Fingure Fish…!!![/button]

[button color=”blue” size=”medium” link=”http://calmingmelody.com/dry-skin-winter-tips-dry-skin/” target=”blank” ]Dry Skin In Winter & Tips For Dry Skin…!!![/button]

Originally posted 2014-11-07 18:16:54.