مرد اپنی غلطی کبھی نہیں مانتا

مرد اپنی غلطی کبھی نہیں مانتا

مرد اپنی غلطی کبھی نہیں مانتا۔ اسکی وجہ کیا ہے یہ آج تک دریافت نہیں کیا جا سکا۔ یا تو انا پرستی یا خود کو عورت سے برتر رکھنے کی خواہش، یہ بھی ممکن ہے کہ عورت سے ہار نا ماننے کا جو دماغی کیڑا ہے وہ ہی مرد کو اپنی غلطی ماننے نہیں دیتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں محبت کرنے والی بیویاں مردوں کی اس حرکت کو بھی سر آنکھوں پر رکھتی ہیں۔ اسکی کئی ایک مثالیں ہیں جیسے مرد اپنے استعمال کی کوئی بھی چیز کہیں رکھ کر خود بھول گیا پھر بھی اسکا الزام بیوی پر۔سونے پر سہاگہ کہ عورت وہ گمی ہوئی چیز نا صرف تلاش کر کے دے گی بلکہ اسکے گم جانے کی ذمہ داری بھی قبول کر لے گی۔ اور ہنسی مزاق میں اس بات کو جانے دے گی۔ جبکہ یہ مثال سخت مزاج مردوں کے سامنے رکھنے پر سخت مزاج مرد اپنی اچھی خاصی فرمانبردار بیوی کا موازنہ دوسرے مرد کی غلطی کو سہہ جانے والی بیوی سے کرے گا اور طعنہ بازی سے کبھی باز نہیں آئے گا۔

یہ سوال آج تک ایک معمہ ہے کہ مرد کو اپنی غلطی تسلیم کرنا کیسے سکھایا جائےَ؟ شور شرابے سے بات نہیں بنتی بلکہ مزید بگڑ جاتی ہے۔ طعنے دینے کے نام پر عورت ویسے ہی بدنام ہے۔ عورتوں کے نام پر لا تعداد لطیفے بنائے گئے ہیں اور مرد ایک دوسرے سے وہ لطیفے بھی بڑے شوق سے شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اسلیئے یہ امید تو بلکل بھی نہیں رکھی جا سکتی کہ کوئی مرد دوسرے مرد کو کچھ اچھا سمجھائے گا۔

بیوی سے انا پرست مرد کو الگ کر دینا بھی کوئی مناسب حل نہیں ہے۔ بیوی کا اپنے شوہر سے غلطی منوانا وہ بھی بحس وتکرار سے یہ تو بلکل بھی بجا نا ہوگا۔ تو کیا مرد خود بخود سدھر جائے گا۔ اسکا جواب تو ایک لفظ ہے۔ نا ممکن۔

تو پھر اسکا حل ہے کیا۔ بس یہ ایک معمولی سا حل ہے جو آج کی عورت سمجھنا نہیں چاہتی۔ وہ یہ کہ عورت یہ بات ذہنی طور پر قبول کر لے کہ مرد نے اپنی غلطی ماننا سیکھا ہی نہیں۔ تو پھر کیوں روز بروز جھگڑے اور بحس کا ماحول بنا کر رکھا جائے۔ عورت کو چاہیئے کہ مرد کی غلطی اسکو بتا کر اس غلطی کو منوانے کی بجائے اپنے کام میں مشغول ہو جائے۔ اسکے کڑوے جواب کو بھی پی جائے۔ اور خود کو انتہائی سمجھدار گردانتے ہوئے اس بار پر صبر کی تلقین کرے کہ اس بیچارے میں اتنی سمجھ کہاں کہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط مان سے۔ لہٰذا خاموشی سےتمام معاملات سلجھا کر چلے۔ عورت کا یہ طریقہ کار چھوٹے معاملات سے لے کر بڑے معاملات کو بھی سلجھانے کا موقع فراہم کرے گا۔ اور بظاہر مرد عورت کی قدر کرے نا کرے۔ مگر دل میں یہ احساس ضرور رکھے گا کہ میں کافی ذیادتی کر جاتا ہوں۔ یقین مانیئے اپکا مقام کم نہیں ہوتا بطور بیوی ایسا کرنے سے۔ بلکہ اپکی قدر بڑھ جاتی ہے۔

.