No Investment, No Reffrel Just Earning .

امام ابوحنیفہ کے قیمتی نصائح

امام ابوحنیفہ کے قیمتی نصائح

CaLmInG MeLoDy

امام ابوحنیفہ کے قیمتی نصائح

جب امام ابوحنیفہ نے اپنے شاگرد رشید یوسف بن خالد سمتی کو بصرہ روانہ کیا تومندرجہ ذیل نصائح فرمائے:
یاد رکھو اگر لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کے ساتھ پیش آؤ گے‘ خواہ ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں تو وہ تمہارے دشمن ہوجائیں گے اور اگر تم اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت سے رہو گے تو وہی تمہارے ماں باپ بن جائیں گے۔
یوں سمجھو کہ بصرہ چلے گئے ہو اور وہاں تم نے مخالفت شروع کردی اور اپنے آپ کو لوگوں سے بالا خیال کرنے لگے ہو اور تمہیں اپنے علم پر گھمنڈ ہے‘ اس لئے ان سے منقبض رہتے ہو‘ اس طرح تم انہیں چھوڑ دوگے‘ وہ تمہیں چھوڑ دیں گے اور تم ان کی تذلیل کروگے وہ تمہاری تذلیل کریں گے‘ اس سے تمہاری بھی بدنامی ہوگی اور ہماری بھی اور تمہیں وہاں سے نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ لہذا یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ وہ شخص عقل مند نہیں ہوسکتا جو ان لوگوں کے ساتھ مدارات سے پیش نہیں آتا ہے جن سے چارہ نہیں ہے‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ وہاں سے بچ نکلنے کی کوئی سبیل پیدا کرے‘ لہذا جب بصرہ جاؤ اور لوگ تمہارے پاس آئیں تو ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو‘ شرفاء اور اہل علم کی عزت کرو اور شیوخ کا احترام بجالاؤ ،نوجوانوں سے ملاطفت کا برتاؤ رکھو‘ عوام کے ساتھ مل جل کررہو اور فاسق اور فاجر لوگوں سے مدارات رکھو‘ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرو‘ اپنا راز دوسرے کے سامنے ظاہر نہ کرو اور کسی پر اس وقت تک اعتماد نہ کرو جب تک تم اسے اچھی طرح جانچ نہ لو۔ کسی خسیس اور وضیع شخص کو گہرا دوست مت بناؤ اور کسی ایسی چیز کی عادت مت ڈالو جو بظاہر زیبا نہ ہو اور سفہاء کے ساتھ انبساط سے کام نہ لو۔مدارات‘ صبر وتحمل‘ حسن خلق اور وسعت ظرف کو کبھی مت چھوڑو‘ ہمیشہ اجلا لباس پہنو‘ سواری چست وچالاک جانور پر کرو‘ خوشبو کا استعمال بکثرت کرو‘ لوگوں کو کھانا کھلاؤ‘ کیونکہ بخیل شخص کبھی بھی سردار نہیں بن سکتا اور تمہارے کچھ جگری دوست ہونے چاہئیں جو لوگوں کے حالات سے کما حقہ آگاہ ہوں،تاکہ جہاں کہیں فساد دیکھو اس کی اصلاح کرو اور جہاں اصلاح نظر آئے ،اس میں رغبت کرو۔ تمہارے ساتھ کوئی نیکی کرے یا برائی‘ تمہیں چاہئے کہ ہر شخص کے ساتھ احسان کرو۔عفو کی عادت ڈالو اور معروف کا حکم دو اور جن چیزوں سے تعلق نہیں ہے ،ان سے تغافل برتو اور جو چیز تکلیف دہ ہو‘ اسے چھوڑدو۔
لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں جلدی کرو‘ مریض کی عیادت کرو اور جو شخص باہر ہو اس کے حالات پوچھتے رہو اور جو شخص تمہارے پاس نہیں آتا تم اس کے پاس ضرور جاؤ اور جہاں تک ہو سکے لوگوں کے ساتھ روا داری سے پیش آؤ‘ ان سے علیک سلیک جاری رکھو‘ اور کمینے لوگوں کے پاس بھی گزر ہو تو انہیں سلام کرو‘ کسی مجلس یا مسجد میں لوگوں کے پاس بیٹھو اور وہ ایسے مسائل شروع کردیں جن سے تمہیں اختلاف رائے ہو تو ان کے سامنے اختلاف کا اظہار مت کرو‘ اگر تم سے پوچھاجائے توجو بات جانتے ہو کہہ دو‘ مگر ساتھ یہ بھی بتاؤ کہ ایک دوسرا مسلک بھی ہے جو یہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے‘ اگر وہ ان کا نام جان لیں گے تو اس سے تمہاری علمی مرتبت ان پر ظاہر ہو جائے گی اور اگر وہ دریافت کریں کہ یہ کن کا قول ہے؟ تو کہہ دو کہ بعض فقہاء کا قول ہے‘ جب وہ ان باتوں سے مانوس ہوجائیں گے تو تمہاری عظمت اور مرتبے کو پہچان لیں گے اور جو لوگ تمہارے پاس آئیں، انہیں کوئی علمی کتاب دیتے رہو‘ تاکہ وہ اس کا مطالعہ کریں اور ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق اس سے کچھ نہ کچھ یاد کرلے۔ انہیں آسان سی کتاب دو ،تاکہ وہ مانوس ہوجائیں۔ کبھی کبھی ان سے خوش طبعی کرتے رہو‘ کیونکہ محبت کی وجہ سے وہ باقاعدہ علم حاصل کریں گے‘ کبھی کبھار انہیں کھانا بھی کھلادیا کرو اور ان کی ضروریات پوری کرتے رہو‘ ہرایک کے مرتبے کو پہنچانتے رہو‘ ان سے نرم سلوک کرو‘ ان کی لغزشوں سے درگزر اور تسامح سے کام لو اور کسی کے ساتھ تنگ دلی سے پیش نہ آؤ‘ ان کے ساتھ گھل مل کررہو اور کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو اور جتنا کام وہ خوش دلی سے کریں، اسی پر اکتفاء کرو‘ حسن نیت اور صدق دلی کا ثبوت دو اور تکبر کی چادر اتار پھینکو‘ کسی کے ساتھ بدعہدی نہ کر‘ خواہ وہ تمہارے ساتھ بدعہدی سے پیش آئے‘ وہ خیانت بھی کریں تو بھی امانت کرو اور وفاداری تو ہاتھ سے نہ جانے دو اور تقویٰ کو اپنا شعار بناؤ اور اہل دین سے حسن معاشرت رکھو۔ (امام ابوحنیفہ حیاتہ وعصرہ للامام محمد ابو زہرہ‘ ص:۱۸۵-۱۸۶)
مذکورہ نصائح وہ ہیں اگر ان پر آج بھی کوئی عالم یا مبلغ عمل پیرا ہو اور ان کو عملی طور پر اپنی زندگی میں لائے تو بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ بہت سے وہ مسائل حل ہوجائیں جو آجکل معاشرے میں علمائے کرام‘ ائمہ مساجد اور مبلغین کو درپیش ہیں اور معاشرے میں وہ تمام خوبیاں عملی طور پر نظر آنے لگیں جن کے لئے ایک عالم اور مبلغ شب وروز کوشاں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین․

Originally posted 2014-10-28 13:51:35.

One thought on “امام ابوحنیفہ کے قیمتی نصائح

  1. So you, as the restorer, have to set realistic goals as to exactly what parts of the car you are going to restore to their original states and
    what parts of the car you are willing to restore “as close as possible”
    to their original states. Producing a very light car will drop its fuel consumption, and oil companies will not appreciate this.
    The damage varies from vehicle to vehicle but can be as
    small as light hail damage which is barely visible through to damage caused by
    falling trees.

Comments are closed.

.