2-کیفیت وحی

2-کیفیت وحی

[facebook][Google][follow id=”Username” ]

حدیث نمبر :2

حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أم المؤمنين ـ رضى الله عنها ـ أن الحارث بن هشام ـ رضى الله عنه ـ سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف يأتيك الوحى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏”‏ أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس ـ وهو أشده على ـ فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال، وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فأعي ما يقول ‏”‏‏.‏ قالت عائشة رضى الله عنها ولقد رأيته ينزل عليه الوحى في اليوم الشديد البرد، فيفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا‏.
ہم کو عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی، انھوں نے اپنے والد سے نقل کی، انھوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ حضور آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس ( فرشتے ) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔

تشریح : انبیاءعلیہم السلام خصوصاً حضرت سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے مختلف طریقے رہے ہیں۔ انبیاءکے خواب بھی وحی ہوتے ہیں اور ان کے قلوب مجلّیٰ پر جو واردات یا الہامات ہوتے ہیں وہ بھی وحی ہیں۔ کبھی اللہ کا فرستادہ فرشتہ اصل صورت میں ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور کبھی بصورت بشرحاضرہوکر ان کو خدا کا فرمان سناتا ہے۔ کبھی باری تعالیٰ وتقدس خودبراہ راست اپنے رسول سے خطاب فرماتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں وقتاً فوقتاً وحی کی یہ جملہ اقسام پائی گئیں۔ حدیث بالا میں جو گھنٹی کی آواز کی مشابہت کا ذکر آیا ہے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے وحی مرادلے کر آنے والے فرشتے کے پیروں کی آواز مراد بتلائی ہے، بعض حضرات نے اس آواز سے صوت باری کو مرادلیا ہے اور قرآنی آیت وماکان لبشر ان يکلمہ اللہ الا وحيا اومن ورآي حجابٍ الخ ( الشوریٰ: 51 ) کے تحت اسے وراءحجاب والی صورت سے تعبیر کیا ہے، آج کل ٹیلی فون کی ایجاد میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فون کرنے والا پہلے گھنٹی پر انگلی رکھتا ہے اور وہ آواز جہاں فون کرتا ہے گھنٹی کی شکل میں آواز دیتی ہے۔ یہ تو اللہ پاک کی طرف سے ایک غیبی روحانی فون ہی ہے جو عالم بالا سے اس کے مقبول بندگان انبیاء ورسل کے قلوب مبارکہ پر نزول کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول اس کثرت سے ہوا کہ اسے باران رحمت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید وہ وحی ہے جسے وحی متلو کہا جاتا ہے، یعنی وہ وحی جو تاقیام دنیا مسلمانوں کی تلاوت میں رہے گی اور وحی غیرمتلوآپ کی احادیث قدسیہ ہیں جن کو قرآن مجید میں “ الحکمۃ ” سے تعبیرکیا گیا ہے۔ ہر دوقسم کی وحی کی حفاظت اللہ پاک نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے اور اس چودہ سوسال کے عرصہ میں جس طرح قرآن کریم کی خدمت وحفاظت کے لیے حفاظ، قرائ، علمائ،فضلائ، مفسرین پیدا ہوتے رہے، اسی طرح احادیث نبویہ کی حفاظت کے لیے اللہ پاک نے گروہ محدثین امام بخاری رحمہ اللہ و مسلم رحمہ اللہ وغیرہم جیسوں کو پیدا کیا۔ جنھوں نے علم نبوی کی وہ خدمت کی کہ قیامت تک امت ان کے احسان سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی۔ حدیث نبوی کہ اگردین ثریا پر ہوگا توآل فارس سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو وہاں سے بھی اسے حاصل کرلیں گے، بلاشک وشبہ اس سے بھی یہی محدثین کرام امام بخاری ومسلم وغیرہم مرادہیں۔ جنھوں نے احادیث نبوی کی طلب میں ہزارہا میل پیدل سفرکیا اور بڑی بڑی تکالیف برداشت کرکے ان کو مدون فرمایا۔

صدافسوس کہ آج اس چودہویں صدی میں کچھ لوگ کھلم کھلا احادیث نبوی کا انکار کرتے اور محدثین کرام پر پھبتیاں اڑاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی پیدا ہوچلے ہیں جو بظاہر ان کے احترام کا دم بھرتے ہیں اور در پردہ ان کو غیرثقہ، محض روایت کنندہ، درایت سے عاری، ناقص الفہم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں۔ مگراللہ پاک نے اپنے مقبول بندوں کی خدماتِ جلیلہ کو جو دوام بخشا اور ان کو قبول عام عطا فرمایا وہ ایسی غلط کاوشوں سے زائل نہیں ہوسکتا۔الغرض وحی کی چارصورتیں ہیں ( 1 ) اللہ پاک براہِ راست اپنے رسول نبی سے خطاب فرمائے ( 2 ) کوئی فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ( 3 ) یہ کہ قلب پر القاءہو ( 4 ) چوتھے یہ کہ سچے خواب دکھائی دیں۔
اصطلاحی طور پر وحی کا لفظ صرف پیغمبروں کے لیے بولا جاتا ہے اور الہام عام ہے جو دوسرے نیک بندوں کو بھی ہوتا رہتا ہے۔ قرآن مجید میں جانوروں کے لیے بھی لفظ الہام کا استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ واوحی ربک الی النحل ( النحل: 68 ) میں مذکور ہے۔ وحی کی مزیدتفصیل کے لیے حضرت امام حدیث ذیل نقل فرماتے ہیں: ( حدیث مبارکہ نمبر 3 دیکھیں )ِ

حدیث نمبر : 3
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عائشة أم المؤمنين، أنها قالت أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحى الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح، ثم حبب إليه الخلاء، وكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه ـ وهو التعبد ـ الليالي ذوات العدد قبل أن ينزع إلى أهله، ويتزود لذلك، ثم يرجع إلى خديجة، فيتزود لمثلها، حتى جاءه الحق وهو في غار حراء، فجاءه الملك فقال اقرأ‏.‏ قال ‏”‏ ما أنا بقارئ ‏”‏‏.‏ قال ‏”‏ فأخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد، ثم أرسلني فقال اقرأ‏.‏ قلت ما أنا بقارئ‏.‏ فأخذني فغطني الثانية حتى بلغ مني الجهد، ثم أرسلني فقال اقرأ‏.‏ فقلت ما أنا بقارئ‏.‏ فأخذني فغطني الثالثة، ثم أرسلني فقال ‏{‏اقرأ باسم ربك الذي خلق * خلق الإنسان من علق * اقرأ وربك الأكرم‏}‏ ‏”‏‏.‏ فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجف فؤاده، فدخل على خديجة بنت خويلد رضى الله عنها فقال ‏”‏ زملوني زملوني ‏”‏‏.‏ فزملوه حتى ذهب عنه الروع، فقال لخديجة وأخبرها الخبر ‏”‏ لقد خشيت على نفسي ‏”‏‏.‏ فقالت خديجة كلا والله ما يخزيك الله أبدا، إنك لتصل الرحم، وتحمل الكل، وتكسب المعدوم، وتقري الضيف، وتعين على نوائب الحق‏.‏ فانطلقت به خديجة حتى أتت به ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى ابن عم خديجة ـ وكان امرأ تنصر في الجاهلية، وكان يكتب الكتاب العبراني، فيكتب من الإنجيل بالعبرانية ما شاء الله أن يكتب، وكان شيخا كبيرا قد عمي ـ فقالت له خديجة يا ابن عم اسمع من ابن أخيك‏.‏ فقال له ورقة يا ابن أخي ماذا ترى فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رأى‏.‏ فقال له ورقة هذا الناموس الذي نزل الله على موسى صلى الله عليه وسلم يا ليتني فيها جذعا، ليتني أكون حيا إذ يخرجك قومك‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏”‏ أومخرجي هم ‏”‏‏.‏ قال نعم، لم يأت رجل قط بمثل ما جئت به إلا عودي، وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا‏.‏ ثم لم ينشب ورقة أن توفي وفتر الوحى‏.‏
ہم کو یحییٰ بن بکیر نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ہم کو لیث نے خبر دی، لیث عقیل سے روایت کرتے ہیں۔ عقیل ابن شہاب سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ پر حق منکشف ہو گیا اور آپ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک حضرت جبرئیل آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ خدا کی قسم آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔ پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ ( انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے ) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از اوّل تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس ( معزز راز دان فرشتہ ) ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟ ( حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں ) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہو گئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔

حدیث نمبر : 4
قال ابن شهاب وأخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أن جابر بن عبد الله الأنصاري، قال ـ وهو يحدث عن فترة الوحى، فقال ـ في حديثه ‏”‏ بينا أنا أمشي، إذ سمعت صوتا، من السماء، فرفعت بصري فإذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والأرض، فرعبت منه، فرجعت فقلت زملوني‏.‏ فأنزل الله تعالى ‏{‏يا أيها المدثر * قم فأنذر‏}‏ إلى قوله ‏{‏والرجز فاهجر‏}‏ فحمي الوحى وتتابع ‏”‏‏.‏ تابعه عبد الله بن يوسف وأبو صالح‏.‏ وتابعه هلال بن رداد عن الزهري‏.‏ وقال يونس ومعمر ‏”‏ بوادره ‏”‏‏.
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے بلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ “ فوادہ ” کی جگہ “ بوادرہ ” نقل کیا ہے۔

تشریح : بوادر،بادرۃ کی جمع ہے۔ جوگردن اور مونڈھے کے درمیانی حصہ جسم پر بولا جاتا ہے۔ کسی دہشت انگیز منظر کو دیکھ کر بسااوقات یہ حصہ بھی پھڑکنے لگتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس حیرت انگیز واقعہ سے آپ کے کاندھے کا گوشت تیزی سے پھڑکنے لگا۔
ابتدائے وحی کے متعلق اس حدیث سے بہت سے امور پر روشنی پڑتی ہے۔ اوّل منامات صادقہ ( سچے خوابوں ) کے ذریعہ آپ کا رابطہ عالم مثال سے قائم کرایا گیا، ساتھ ہی آپ نے غارحرا میں خلوت اختیارکی۔ یہ غار مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ آپ نے وہاں “ تحنث ” اختیار فرمایا۔ لفظ تحنث زمانہ جاہلیت کی اصطلاح ہے۔ اس زمانہ میں عبادت کا اہم طریقہ یہی سمجھا جاتا تھا کہ آدمی کسی گوشے میں دنیاومافیہا سے الگ ہوکر کچھ راتیں یادِ خدا میں بسرکرے۔ چونکہ آپ کے پاس اس وقت تک وحی الٰہی نہیں آئی تھی، اس لیے آپ نے یہ عمل اختیار فرمایا اور یادِالٰہی، ذکروفکر ومراقبہ نفس میں بالقائے ربانی وہاں وقت گذارا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو تین مرتبہ اپنے سینے سے آپ کا سینہ ملاکر زور سے اس لیے بھینچا کہ بحکم خدا آپ کا سینہ کھل جائے اور ایک خاکی ومادی مخلوق کو نورانی مخلوق سے فوری رابطہ حاصل ہوجائے۔ یہی ہوا کہ آپ بعد میں وحی الٰہی اقرا باسم ربک کو فرفر ادا کرنے لگے۔ پہلی وحی میں یہ سلسلہ علوم معرفت حق وخلقت انسانی واہمیت قلم وآداب تعلیم اور علم وجہل کے فرق پر جوجولطیف اشارات کئے گئے ہیں، ان کی تفصیل کایہ موقع نہیں، نہ یہاں گنجائش ہے۔ ورقہ بن نوفل عہدجاہلیت میں بت پر ستی سے متنفر ہوکر نصرانی ہوگئے تھے اور ان کو سریانی وعبرانی علوم حاصل تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات پر ان کو جنتی لباس میں دیکھا اس لیے کہ یہ شروع ہی میں آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ہمت افزائی کے لیے جو کچھ فرمایاوہ آپ کے اخلاق فاضلہ کی ایک بہترین تصویر ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرف عام کے پیش نظر فرمایا کہ آپ جیسے ہمدرد انسانیت بااخلاق ہرگز ذلیل وخوار نہیں ہوا کرتے۔ بلکہ آپ کا مستقبل تو بے حد شاندارہے۔ ورقہ نے حالات سن کر حضرت جبرئیل علیہ السلام کو لفظ “ ناموس اکبر ” سے یادفرمایا۔ علامہ قسطلانی رحمہ اللہ شرح بخاری میں فرماتے ہیں ہو صاحب سرالوحی والمراد بہ جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام واہل الکتاب یسمونہ الناموس الاکبر یعنی یہ وحی کے رازداں حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں جن کو اہل کتاب “ ناموس اکبر ” کے نام سے موسوم کیا کرتے تھے۔ حضرت ورقہ نے باوجودیکہ وہ عیسائی تھے مگریہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام لیا، اس لیے کہ حضرت موسیٰ ہی صاحب شریعت ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی ہی کے مبلغ تھے۔ اس کے بعد تین یااڑھائی سال تک وحی کا سلسلہ بند رہا کہ اچانک مدثر کا نزول ہوا۔ پھر برابر پے درپے وحی آنے لگی۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو دبایا۔ اس کے متعلق علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہذا الغط لیفرغہ من النظر الی امور الدنیا ویقبل بکلیۃ الی مایلقی الیہ وکررہ للمبالغۃ واستدل بہ علی ان المودب لایضرب صبیا اکثر من ثلاث ضربات وقیل الغطۃ الاولیٰ لیتخلیٰ عن الدنیا والثانیۃ لیتفرغ لما یوحی الیہ والثالثۃ للموانسۃ ( ارشاد الساری 63/1 ) یعنی یہ دبانا اس لیے تھا کہ آپ کو دنیاوی امور کی طرف نظر ڈالنے سے فارغ کرکے جووحی وباررسالت آپ پر ڈالا جارہا ہے، اس کے کلی طور پر قبول کرنے کے لیے آپ کو تیار کردیاجائے۔ اس واقعہ سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ معلّم کے لیے مناسب ہے کہ بوقت ضرورت اگرمتعلّم کو مارنا ہی ہو توتین دفعہ سے زیادہ نہ مارے۔ بعض لوگوں نے اس واقعہ “ غطہ ” کوآنحضرت کے خصائص میں شمار کیا ہے۔ اس لیے کہ دیگر انبیاءکی ابتداءوحی کے وقت ایسا واقعہ کہیں منقول نہیں ہوا۔ حضرت ورقہ بن نوفل نے آپ کے حالات سن کر جو کچھ خوشی کا اظہار کیا۔ اس کی مزید تفصیل علامہ قسطلانی یوں نقل فرماتے ہیں۔ ( فقال لہ ورقۃ ابشرثم ابشر فانااشہدانک الدی بشربہ ابن مریم وانک علی مثل ناموس موسیٰ وانک نبی مرسل ) یعنی ورقہ نے کہا کہ خوش ہوجائیے، خوش ہوجائیے، میں یقینا گواہی دیتاہوں کہ آپ وہی نبی ورسول ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریمعلیہ السلام نے دی تھی اور آپ پر وہی ناموس نازل ہوا ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا کرتا تھا اور آپ بے شک اللہ کے فرستادہ سچے رسول ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل کو مرنے کے بعدجنتی لباس میں دیکھا تھا۔ اس لیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی، اس لیے جنتی ہوا۔ ورقہ بن نوفل کے اس واقعہ سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرکوئی شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور اس کو دوسرے اسلامی فرائض ادا کرنے کا موقع نہ ملے، اس سے پہلے ہی وہ انتقال کرجائے، اللہ پاک ایمانی برکت سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔
حضرت مولاناثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ: بذیل تفسیر سورۃ مدثر “ وثیابک فطہر ” فرماتے ہیں کہ عرب کے شعراءثیاب سے مراد دل لیا کرتے ہیں۔ امرالقیس کہتا ہے۔ وان کنت قد ساتک منی خلیقۃ فسلی ثیابی من ثیابک تنسلی اس شعر میں ثیاب سے مراد دل ہے۔یہاں مناسب یہی ہے کیونکہ کپڑوں کا پاک رکھنا صحت صلوٰۃ کے لیے ضروری ہے مگردل کا پاک صاف رکھنا ہرحال میں لازمی ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے ( ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسدالجسد کلہ الا وہی القلب ) یعنی انسان کے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو توسارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے توسارا جسم بگڑ جاتا ہے، سووہ دل ہے۔ ( اللہم اصلح قلبی وقلب کل ناظر ) ( تفسیر ثنائی )

عجیب لطیفہ: قرآن کی کون سی سورۃ پہلے نازل ہوئی، اس بارے میں قدرے اختلاف ہے مگر سورۃ اقراءباسم ربک الذی پر تقریباً اکثرکا اتفاق ہے، اس کے بعد فترۃ وحی کا زمانہ اڑھائی تین سال رہا اور پہلی سورۃ یاایہا المدثر نازل ہوئی۔ مسلکی تعصب کا حال ملاحظہ ہوکہ اس مقام پر ایک صاحب نے جو بخاری شریف کا ترجمہ باشرح شائع فرما رہے ہیں۔اس سے سورۃ فاتحہ کی نماز میں عدم رکنیت پر دلیل پکڑی ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: “ سب سے پہلے سورۃ اقرانازل ہوئی اور سورۃ فاتحہ کا نزول بعد کو ہوا ہے تو جب تک اس کا نزول نہیں ہوا تھا، اس زمانے کی نمازیں کس طرح درست ہوئیں؟ جب کہ فاتحہ رکن نماز ہے کہ بغیر اس کے نماز درست نہیں ہوسکتی قائلین رکنیت فاتحہ جواب دیں۔ ” ( انوارالباری، جلد: اولص40 )
نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا صحت نماز کے لیے ضروری ہے، اس پر یہاں تفصیل سے لکھنے کا موقع نہیں نہ اس بحث کا یہ محل ہے ہاں حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے لفظوں میں اتنا عرض کردینا ضروری ہے کہ فان قراءتہا فریضۃ وہی رکن تبطل الصلوۃ بترکہا ( غنیہ الطالبین، ص: 53 ) یعنی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا بطور رکن نماز فرض ہے جس کے ترک کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے، موصوف کے جواب میں ہم سردست اتنا عرض کردینا کافی سمجھتے ہیں کہ جب کہ ابھی سورۃ فاتحہ کا نزول ہی نہیں ہوا تھا جیسا کہ موصوف نے بھی لکھا ہے تواس موقع پر اس کی رکنیت یافرضیت کا سوال ہی کیا ہے؟ ابتدائے رسالت میں بہت سے اسلامی احکام وجود میں نہیں آئے تھے جو بعد میں بتلائے گئے۔ پھر اگر کوئی کہنے لگے کہ یہ احکام شروع زمانہ رسالت میں نہ تھے تو ان کا ماننا ضروری کیوں؟ غالباً کوئی ذی عقل انسان اس بات کو صحیح نہیں سمجھے گا۔ پہلے صرف دو نمازیں تھیں بعد میں نماز پنج وقتہ کا طریقہ جاری ہوا، پہلے اذان بھی نہ تھی بعدمیں اذان کا سلسلہ جاری ہوا۔ مکی زندگی میں رمضان کے روزے فرض نہیں تھے، مدنی زندگی میں یہ فرض عائد کیاگیا۔ پھر کیا موصوف کی اس نازک دلیل کی بنا پر ان جملہ امور کا انکار کیاجا سکتا ہے؟ ایک ادنیٰ تامل سے یہ حقیقت واضح ہوسکتی تھی، مگرجہاں قدم قدم پر مسلکی وفقہی جمود کام کررہا ہو وہاں وسعت نظری کی تلاش عبث ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب بھی سورۃ فاتحہ کا نزول ہوا اور نماز فرض باجماعت کا طریقہ اسلام میں رائج ہوا، اس سورۃ شریفہ کو رکن نماز قرار دیاگیا۔ نزول سورہ وفرض نمازجماعت سے قبل ان چیزوں کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا۔ باقی مباحث اپنے مقام پر آئیں گے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
حدیث قدسی میں سورۃ فاتحہ کو “ نماز ” کہا گیا ہے۔ شاید معترض صاحب اس پر بھی یوں کہنے لگیں کہ جب سورۃ فاتحہ ہی اصل نماز ہے تو اس کے نزول سے قبل والی نمازوں کو نمازکہنا کیوں کر صحیح ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ سورۃ فاتحہ نماز کا ایک ضروری رکن ہے اور معترض کا قول صحیح نہیں۔ یہ جواب اس بنا پر ہے کہ سورہ فاتحہ کا نزول مکہ میں نہ ماناجائے لیکن اگر مان لیا جائے جیسا کہ کتب تفاسیر سے ثابت ہے کہ سورہ فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی تومکہ شریف ہی میں اس کی رکنیت نماز کے لیے ثابت ہوگی۔

[dropcap][/dropcap]

.